وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کی اہم ملاقات

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والی اہم ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام، غزہ کی جنگ، لبنان کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور امریکہ۔اسرائیل تعلقات سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے حساس وقت پر منعقد ہوئی جب ایران کے حوالے سے دونوں رہنماؤں کے درمیان حکمت عملی کے فرق کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔
ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم کی معلومات کی فی الحال ضرورت نہیں، کیونکہ امریکی انٹیلی جنس ادارے خود زمینی حقائق سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو انہیں یہ معلومات اس لیے فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ ایران کے تنازع میں مستقل بنیادوں پر شامل رہے۔

ملاقات کے نتائج اور مشترکہ عزم
ملاقات کے اختتام پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے ‘انتہائی بہترین’ قرار دیا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے کی سلامتی اور اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ غزہ میں جاری شدید جنگ، لبنان کی نازک سرحدی صورتحال، علاقائی سلامتی، اور اسحاق ڈار اور اردن کے وزیر خارجہ کی غزہ صورتحال پر تشویش کے تناظر میں سفارتی پیش رفت پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ امریکی حکام نے اس ملاقات کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔
حکمت عملی میں نمایاں اختلافات

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران سے متعلق امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی میں بعض اہم اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ جہاں ایک جانب ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے سخت مؤقف برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں، وہیں وہ سفارتی مذاکرات کو بھی ایک موقع دینے کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب، نیتن یاہو ایران پر زیادہ دباؤ برقرار رکھنے اور سخت اقدامات کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات میں غزہ اور لبنان سے متعلق جاری سفارتی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ نیتن یاہو نے امریکہ کو یقین دلایا کہ اسرائیل خطے میں سفارتی اقدامات میں رکاوٹ نہیں بنے گا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت سفارتی مشنز کی تنظیم نو کا اجلاس بھی خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
سیاسی اہمیت اور مستقبل کے اثرات
امریکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کے لیے یہ دورہ سیاسی اعتبار سے بھی انتہائی اہم تھا کیونکہ اسرائیل میں آئندہ انتخابات قریب آ رہے ہیں، جبکہ امریکہ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مستقبل کی حکمت عملی اور خطے میں امریکی کردار کے حوالے سے مختلف سفارتی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اتحاد اور تعاون کا پیغام دیا، تاہم ایران کے معاملے پر حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں ایران کے جوہری پروگرام، غزہ کی جنگ اور امریکہ۔اسرائیل سفارتی رابطوں میں ہونے والی پیش رفت اس ملاقات کے حقیقی اور عملی نتائج کا تعین کرے گی۔ مزید برآں، خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بحران عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن چکا ہے۔