ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ عروج پر

واشنگٹن/تہران (نمائندہ خصوصی)۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اہداف پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے تمام میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
ایران کا میزائل حملوں کا دعویٰ اور امریکی موقف
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) سے متعلق اہداف کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے ردعمل میں کی گئی۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔ امریکی فوج کے مطابق حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور تمام تنصیبات محفوظ رہیں۔ یہ صورتحال بالکل ویسی ہی تشویشناک ہے جیسے ٹرمپ کی نیتن یاہو پر تنقید، ایران جنگ میں ملوث ہونے سے گریز جیسے واقعات کے بعد خطے میں پیدا ہوتی رہی ہے۔
عراق میں امریکی و سعودی مشترکہ فضائی کارروائی
ادھر امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے خطے میں امریکی اور اتحادی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ واضح رہے کہ خطے میں امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت کیوں نہیں ٹوٹی؟ نئی رپورٹ کے مطابق ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ دوسری جانب اسحاق ڈار اور اردن کے وزیر خارجہ کی غزہ صورتحال پر تشویش جیسے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
عالمی منڈیوں پر اثرات اور صورتحال
ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں وارننگ نظر انداز کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ عالمی خبر رساں اداروں Reuters اور Associated Press (AP) کے مطابق ان واقعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔