مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

وفاقی تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے امتحانی نتائج جاری کر دیے

وفاقی تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے امتحانی نتائج جاری کر دیے (تصویر 1)

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) نے نہم اور دہم جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ نتائج کے مطابق مجموعی طور پر ٹاپ 10 پوزیشنوں میں سے 7 پوزیشنیں طالبات کے نام رہیں، جبکہ وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) کے زیر انتظام اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں کا کوئی بھی طالب علم نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ یہ صورتحال تعلیمی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جس کے اثرات پر وزیراعظم شہباز شریف کی یوتھ پروگرام کے تحت روزگار کے مواقع بڑھانے کی ہدایت کے تناظر میں بھی غور کیا جا رہا ہے۔

نتائج کی تقریب اور مہمان خصوصی

نتائج کے اعلان کی پروقار تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین فیڈرل بورڈ نے امتحانی نتائج اور تعلیمی بورڈ کی مجموعی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پوزیشن ہولڈرز اور کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں علم، تحقیق اور جدت ہی ترقی کی ضمانت ہیں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

وفاقی تعلیمی بورڈ نے نہم و دہم کے امتحانی نتائج جاری کر دیے (تصویر 2)

امتحانی اعداد و شمار اور کامیابی کا تناسب

چیئرمین فیڈرل بورڈ کے مطابق رواں سال نہم اور دہم جماعت کے امتحانات میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 92 ہزار 831 طلبہ و طالبات شریک ہوئے۔ ایس ایس سی پارٹ ون میں 1 لاکھ 50 ہزار 77 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے 88 ہزار 646 کامیاب قرار پائے اور کامیابی کا مجموعی تناسب 59.77 فیصد رہا۔ اسی طرح ایس ایس سی پارٹ ٹو میں 1 لاکھ 41 ہزار 653 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے 1 لاکھ 28 ہزار 70 طلبہ کامیاب رہے اور کامیابی کا تناسب 91.33 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ امتحانات کے شفاف انعقاد کے لیے ملک سمیت بیرون ملک 1006 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے، جہاں 2012 سپروائزری عملہ اور 6996 انویجی لیٹرز تعینات رہے۔ پرچوں کی جانچ کے عمل میں 4855 اساتذہ نے خدمات انجام دیں۔ تاہم، اس دوران نقل کے 86 کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔

نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ

سائنس گروپ میں آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج گرلز، پاسبان راولپنڈی کینٹ کی افیرا اعجاز نے 1089 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج، مظفرآباد کی آمنہ نعمان 1088 نمبروں کے ساتھ دوسری جبکہ فضائیہ انٹر کالج، جناح کیمپ، راولپنڈی کینٹ کے حذیفہ حیدر 1086 نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر رہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح ہارون اختر خان اور فاروق ستار کے درمیان معاشی امور پر ملاقات کے دوران معاشی بہتری پر زور دیا گیا، اسی طرح تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بھی احسن اقبال اور مولانا ہدایت الرحمٰن کی گوادر ترقی پر اہم ملاقات جیسے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال آرمی پبلک اسکولز اور دیگر نجی تعلیمی اداروں کا پلڑا بھاری رہا، جس نے وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں