مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاور سیکٹر میں اصلاحات اولین ترجیح ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا عزم

پاور سیکٹر میں اصلاحات اولین ترجیح ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا عزم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے گاؤں کی سطح پر شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے منصوبے جلد از جلد تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پاور ڈویژن امور پر جائزہ اجلاس

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور ڈویژن کے امور پر جائزہ اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز پولیس سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے پاور سیکٹر میں اصلاحات اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر کارکردگی پر متعلقہ وزراء اور ٹاسک فورس کی کارکردگی کو سراہا۔ جس طرح حکومت عوام کی سہولت کے لیے کوشاں ہے، اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے ڈیجیٹل نظام کا قیام بھی حکومت کے اہم ایجنڈے کا حصہ ہے۔

بجلی چوری کی روک تھام اور ٹیکنیکل آڈٹ

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے مزید ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ انہوں نے بجلی چوری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ہر سطح پر سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا ٹیکنیکل آڈٹ کروانے اور ان کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ‘کی پرفارمنس انڈیکیٹرز’ (KPIs) ترتیب دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹائم لائن کے ساتھ مربوط اہداف متعین کیے جائیں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ڈسکو (DISCOs) کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ یاد رہے کہ جس طرح راولپنڈی میں خودکار ای چالان نظام مزید چودہ مقامات تک توسیع دی گئی ہے، اسی طرح بجلی کے نظام میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا نفاذ ناگزیر ہے۔

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا تکنیکی اور کمرشل نقصان بتدریج کم ہو رہا ہے۔ پچھلے مالی سال میں اسلام آباد، لاہور اور گوجرانوالا کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کا نقصان سب سے کم رہا۔ مالی سال 2025-2026 میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے 100 فیصد ریکیوریاں کیں۔

مزید برآں، بجلی کی چوری روکنے اور ریکوری بہتر بنانے کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ میں ڈسکو سپورٹ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانسفارمر کی سطح پر ‘ایسیٹ پرفارمنس منیجمنٹ سسٹم’ کی تنصیب کا پہلا مرحلہ 30 ستمبر 2026ء تک مکمل ہوگا۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ کے ریجنز میں 16.2 ملین سنگل فیز اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ زیر غور ہے۔ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ملک میں جاری دیگر امور پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات بھی ملکی استحکام کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں