پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی درآمد میں ریکارڈ اضافہ، 30 ماہ میں 6 گیگا واٹ آور سے زائد بیٹریاں درآمد

پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی درآمد میں ریکارڈ اضافہ، 30 ماہ میں 6 گیگا واٹ آور سے زائد بیٹریاں درآمد
اسلام آباد: پاکستان میں شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی درآمد میں بھی غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 ماہ کے دوران ملک میں 6 گیگا واٹ آور سے زائد صلاحیت کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کی گئیں، جو بجلی ذخیرہ کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پاور ڈویژن کے مشیر سید فیضان علی کی مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے جون 2026 کے درمیان پاکستان نے مجموعی طور پر 6.004 گیگا واٹ آور صلاحیت کی لیتھیم آئن بیٹریاں درآمد کیں، جن کی مالیت تقریباً 454.7 ملین امریکی ڈالر، یعنی 126 ارب روپے سے زائد رہی۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 بیٹری درآمدات کے حوالے سے ریکارڈ مہینہ ثابت ہوا، جب ایک ہی ماہ میں 652.2 میگا واٹ آور صلاحیت کی بیٹریاں پاکستان درآمد کی گئیں، جو اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے سے واضح ہوتا ہے کہ گھریلو، تجارتی اور صنعتی شعبوں میں بیٹری اسٹوریج سسٹمز کی تنصیب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سولر پینلز کی تنصیب میں اضافے کے ساتھ صارفین اب صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اضافی بجلی کو بیٹریوں میں محفوظ کرنے کا رجحان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش کے دوران بجلی کی فراہمی ممکن ہوتی ہے بلکہ شام کے اوقات میں گرڈ سے مہنگی بجلی خریدنے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں شام کے وقت بجلی کی طلب 26 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز مستقبل میں قومی بجلی نظام کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ٹائم آف یوز نیٹ میٹرنگ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ صارفین کو شام کے اوقات میں گرڈ کو بجلی فراہم کرنے پر بہتر معاوضہ مل سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور توانائی کے تحفظ سے متعلق خدشات نے بھی بیٹری اسٹوریج مارکیٹ کی تیز رفتار ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی رجسٹریشن، نگرانی اور مقامی سطح پر لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LFP) بیٹریوں اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز کی تیاری کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان میں بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں نمایاں استحکام اور درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی آئے گی۔