مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

حکومت کی جانب سے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا مسودہ واپس

حکومت کی جانب سے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا مسودہ واپس

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومتِ پاکستان نے مقامی آٹو انڈسٹری کی جانب سے اٹھائے گئے شدید تحفظات اور اعتراضات کے بعد نئی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا موجودہ مسودہ واپس لے لیا ہے۔

پالیسی پر نظرثانی کا فیصلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا مسودہ دوبارہ تیار کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو سونپ دی ہے۔ کار ساز کمپنیوں کا یہ دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ اگرچہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مراعات دی جانی چاہئیں، تاہم ایسی کسی بھی پالیسی کا نفاذ نہیں ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں روایتی گاڑیوں کی مقامی صنعت غیر مساوی ٹیکس نظام یا دیگر حکومتی اقدامات سے بری طرح متاثر ہو۔

مقامی صنعت کے تحفظات اور خدشات

صنعت کاروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کا عمل مرحلہ وار ہونا چاہیے اور اس دوران مقامی مینوفیکچرنگ، آٹو پارٹس کی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ جیسے کہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم کا معاہدہ ایک اہم پیشرفت ہے، اسی طرح آٹو سیکٹر میں بھی پائیدار پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

ٹیکس کا نظام اور مارکیٹ پر اثرات

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ‘آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26’ کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی پالیسی بروقت نافذ نہ ہو سکی۔ اس تاخیر کے باعث یکم جولائی 2026 سے ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس دوبارہ 25 فیصد ہو گیا، جس کے بعد بعض کمپنیوں نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جبکہ کچھ کمپنیوں نے غیر یقینی صورتحال کے باعث انوائسنگ اور ڈیلیوری عارضی طور پر روک دی ہے۔

مشاورت کے ذریعے نئی پالیسی کی تیاری

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) اور دیگر صنعتی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی تمام متعلقہ فریقوں سے وسیع مشاورت کے بعد ہی مرتب کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی اور مقامی ای وی پارٹس انڈسٹری کی عدم دستیابی تک ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ایک متوازن ٹیکس پالیسی برقرار رکھی جانی چاہیے، تاکہ سونی کا گردن پر پہننے والا جدید کولنگ ڈیوائس توجہ کا مرکز بننے جیسی ٹیکنالوجی کے برعکس، بنیادی آٹو انڈسٹری کو استحکام مل سکے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کی چار ہائیکورٹس میں 19 نئے ججز کی تعیناتی التوا کا شکار ہونے جیسے دیگر انتظامی امور کی طرح، آٹو سیکٹر کا بحران بھی قومی معیشت پر اثرانداز ہو رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں