زیتون کی صنعت کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں اور مراعات میں توسیع ناگزیر ہے

زیتون کی صنعت کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں اور مراعات میں توسیع ناگزیر ہے، ماہرین اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ زیتون کی کاشت اور مقامی زیتون کے تیل کی صنعت کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسی اصلاحات، ٹیکس مراعات، معیار کی جانچ کے نظام اور برآمدی سہولیات کو وسعت دی جائے تاکہ پاکستان اس شعبے کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق زیتون کے باغات کئی برس بعد پیداوار دینا شروع کرتے ہیں جبکہ مکمل تجارتی پیداوار حاصل ہونے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں، اس لیے سرمایہ کاروں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں کی طرح زیتون کے کاشتکاروں کو بھی حکومتی مراعات ملنی چاہئیں کیونکہ یہ صنعت درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرمبادلہ بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معیاری ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل کی بین الاقوامی طلب موجود ہے، تاہم اس کے لیے عالمی معیار کی سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی، جدید لیبارٹریوں اور مؤثر ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت مناسب پالیسی معاونت فراہم کرے تو پاکستان زیتون کے تیل کی عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔