سعودی تیل کی برآمدات کے متبادل راستے بھی محدود، عالمی سپلائی کو نئے خطرات کا سامنا

سعودی تیل کی برآمدات کے متبادل راستے بھی محدود، عالمی سپلائی کو نئے خطرات کا سامنا
ریاض: سعودی عرب کو خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے متبادل راستوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث تیل کی ترسیل کے دستیاب متبادل راستے بھی اپنی گنجائش کی حد تک پہنچنے لگے ہیں، جس سے سعودی تیل کی برآمدات مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
OilPrice کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازرانی متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنے خام تیل کا بڑا حصہ مشرقی ساحل سے مغربی ساحل کی جانب منتقل کیا تاکہ بحیرہ احمر کے راستے عالمی منڈیوں تک تیل پہنچایا جاسکے، تاہم بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے خطرے نے اس متبادل راستے کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ میں آبنائے ہرمز میں ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت متاثر ہونے پر سعودی عرب نے اپنی عرب لائٹ خام تیل کی بڑی مقدار ینبع بندرگاہ منتقل کرنا شروع کی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش رکھنے والی Petroline پائپ لائن استعمال کی گئی۔
اس حکمت عملی کے نتیجے میں ینبع سے سعودی خام تیل کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ مارچ میں یہاں سے تیل کی برآمدات تقریباً 24 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 330 فیصد زیادہ تھیں۔
اپریل میں ینبع سے سعودی تیل کی ترسیل 40 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی تجاوز کرگئی، تاہم جون تک یہ حجم کم ہوکر تقریباً 23 لاکھ 90 ہزار بیرل یومیہ رہ گیا۔ یہ مارچ کی بلند ترین سطح سے 41 فیصد کم اور جنوری میں سعودی عرب کی مجموعی یومیہ تیل برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 66 فیصد کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون کے آخر میں ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں کچھ بہتری آئی تھی، تاہم کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد صورتحال ایک بار پھر خراب ہوگئی۔ 29 جولائی کو صرف 5 ٹینکر آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے جبکہ 3 ٹینکر وہاں سے باہر نکل سکے۔
بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خطرات کے باعث سعودی تیل بردار جہاز ینبع سے جنوب کی طرف جانے کے بجائے شمالی راستہ اختیار کررہے ہیں تاکہ خطرناک سمندری علاقوں سے بچا جاسکے۔ اس صورتحال میں سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ اب مصر کے ذریعے سویز کینال اور SUMED پائپ لائن بن گیا ہے۔
تاہم یہ راستہ بھی سعودی عرب کی سابقہ برآمدی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ SUMED پائپ لائن کی یومیہ گنجائش تقریباً 25 لاکھ بیرل ہے جبکہ سویز کینال کے ذریعے تیل کی ترسیل کی گنجائش تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ بتائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ SUMED کی کچھ گنجائش پہلے ہی دوسرے ممالک کے لیے مختص ہے۔
OilPrice کے مطابق سعودی عرب نے ینبع سے مصر کی عین سخنہ بندرگاہ تک خام تیل پہنچانے کے لیے بڑے آئل ٹینکرز کا استعمال بھی شروع کردیا ہے۔ وہاں سے خام تیل SUMED پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم کے ساحل تک منتقل کیا جاسکتا ہے، جبکہ بحیرہ روم میں سیدی کریر بندرگاہ کے ذریعے سعودی تیل ایشیائی خریداروں تک پہنچایا جارہا ہے۔
تاہم تجزیے کے مطابق سویز کینال اور SUMED پائپ لائن مل کر بھی سعودی عرب کے سابقہ برآمدی حجم کو مکمل طور پر سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خطرات برقرار رہے تو آنے والے ہفتوں میں سعودی خام تیل کی برآمدات میں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سعودی عرب کو کچھ مالی سہارا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 47 فیصد بڑھ چکی ہے۔ دوسری سہ ماہی میں سعودی تیل کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد کمی کے باوجود تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ رہی۔
OilPrice کے تجزیے کے مطابق سعودی عرب کے لیے اس وقت بنیادی مسئلہ خام تیل کی پیداوار سے زیادہ اسے محفوظ اور مؤثر انداز میں عالمی منڈیوں تک پہنچانا بن گیا ہے۔ آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر، سویز کینال اور متبادل پائپ لائنوں پر بڑھتا ہوا دباؤ نہ صرف سعودی برآمدات بلکہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے بھی نئے جغرافیائی اور سیکیورٹی خطرات پیدا کررہا ہے۔