بلوچستان زیارت شہدا کے لواحقین سے ایف سی کمانڈرز کی ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ بلوچستان کے علاقے زیارت میں دہشت گردی کی حالیہ بزدلانہ کارروائی میں، پولیس کے 27 اہلکاروں نے بھارتی آلہ کار ’فتنۃ ہندوستان‘ کے دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان میں سے 18 اہلکاروں کو دہشت گردوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ ان بہادر جوانوں نے ہتھیار ڈالنے یا ریاست کی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی غیرت و وقار کو مقدم رکھا اور جامِ شہادت نوش کر کے پیشہ ورانہ وفاداری اور شجاعت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔
اتحاد اور عزمِ نو کا اظہار

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے مکمل متحد ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے، فرنٹیر کور (ایف سی) بلوچستان (نارتھ) کے کمانڈرز نے شہدا کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں، فاتحہ خوانی کی اور پسماندگان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ جیسا کہ ملک بھر میں سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، حالیہ بلوچستان میں آپریشن شعبان، فتنہ الخوارج کے 71 دہشت گرد ہلاک کے تناظر میں یہ اقدام اداروں کے مابین گہرے اور مضبوط تعلق کا عکاس ہے۔

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ محاذ

ریاست کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نیم فوجی دستے الگ تھلگ رہ کر نہیں لڑتے، بلکہ وہ غم کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کے شریکِ سفر ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مل کر نبرد آزما ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ملک کے دیگر حصوں بشمول واشک کے علاقے ماشکیل میں دہشت گردوں کا حملہ، 5 مزدور شہید جیسے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا پیچھا کیا ہے۔ ملاقاتوں کے موقع پر موجود ایک اعلیٰ افسر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “ہمارے پولیس کے بھائیوں کا خون ہم سب پر ایک قرض ہے۔ ہم اس دکھ کو ایک ہی خاندان کی طرح محسوس کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ایک ہی محاذ پر متحد کھڑے ہیں۔”
قربانیوں کا رائیگاں نہ جانے کا عہد
ایف سی حکام نے سوگوار خاندانوں کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے پیاروں کی قربانیوں کو نہ تو کبھی فراموش کیا جائے گا اور نہ ہی ان کا خون رائگاں جانے دیا جائے گا۔ ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے، حالیہ رپورٹس جیسے کہ آپریشن شعبان میں مزید 4 دہشت گرد ہلاک، ہلاکتوں کی تعداد 71 کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جو اس عزم کو دہراتی ہیں کہ ریاست دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔