خواجہ آصف کا مولانا فضل الرحمان پر سخت سیاسی تنقید کا اظہار

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے کم از کم ایک نکتے پر پوری پارلیمان اور قوم کو متحد ہونا چاہیے، کیونکہ قومی مفاد کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی پوری سیاسی تاریخ تضادات سے بھری پڑی ہے اور کشمیر کاز کے لیے منصب سے مراعات حاصل کرنے کے علاوہ ان کی خدمات کیا ہیں۔
اہم نکات
- وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کے دفاع اور سالمیت پر پارلیمان اور قوم کو متحد ہونا چاہیے۔
- خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ کو تضادات سے بھری قرار دیا ہے۔
- تہران میں ہونے والی بات چیت دفاعی معاہدے کے بجائے سفارتی کوششوں کا حصہ تھی۔
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار سے ممکنہ علاقائی تصادم کو ٹالنے میں مدد ملی۔
خواجہ محمد آصف کا مولانا فضل الرحمان پر کڑا وار
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان کے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت کسی دفاعی معاہدے کے حوالے سے نہیں تھی، بلکہ وہاں ایک ذریعے سے پیغام پہنچایا گیا جس سے بات چیت کی زمین ہموار ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ سوا سال کے دوران جنگ میں کامیابی کے بعد جس طرح سفارتی سطح پر کردار ادا کیا، اس کے نتیجے میں ایک ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں مدد ملی، بالخصوص یمن کے مسئلے پر صورتِ حال کو سنبھالا گیا۔
خواجہ محمد آصف نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے دوران انہوں نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا جس سے مسئلہ کشمیر کو فائدہ پہنچا ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ کسی وقت فوج یا ہائبرڈ نظام کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو انہیں ماضی یاد دلایا جاتا ہے، کیونکہ ان کی اپنی سیاست تضادات سے بھری ہوئی ہے۔
قومی مفاد اور سیاسی رواداری
وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اپنے باہمی اختلافات ایک طرف رکھ کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو حکومت میں حصہ مل جاتا تو شاید کل والی تقریر کی نوبت نہ آتی۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں قوم کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ گروہی اور ذاتی سیاست نہیں کریں گے بلکہ آئین، جمہوریت اور ملکی سالمیت کی سیاست کریں گے۔
اہم سوالات و جوابات
وزیرِ دفاع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی کشمیر کمیٹی میں کارکردگی کیسی رہی؟
خواجہ محمد آصف کے مطابق دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے دوران مولانا فضل الرحمان کا کوئی ایسا کارنامہ سامنے نہیں آیا جس سے مسئلہ کشمیر کو کوئی فائدہ پہنچا ہو، سوائے اس کے کہ اس منصب سے مراعات حاصل کی گئیں۔
تہران میں ہونے والی پیش رفت کا اصل مقصد کیا تھا؟
وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت کسی دفاعی معاہدے کا حصہ نہیں تھی بلکہ وہاں سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار کی گئی جس سے یمن سمیت خطے میں ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں مدد ملی۔