تخلیقی معیشت کے فروغ کے لیے وزارت قومی ورثہ اور لاہور چیمبر کا اشتراک

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مل کر پاکستان کی تخلیقی معیشت کو فروغ دیں گے تاکہ روایتی فنون اور دستکاریوں کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔ اس اجلاس میں لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چودھری خادم حسین اور وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمن گیلانی نے شرکت کی۔
اہم نکات
- پاکستان کے ثقافتی ورثے اور دستکاریوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
- پاکستان کی جانب سے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں مزید دو تاریخی مقامات کو شامل کرانے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے۔
- لاہور کو 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔
- وزارت قومی ورثہ و ثقافت کی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کی تعداد ایک سال میں 23 سے بڑھ کر 40 ہو گئی ہے۔
تخلیقی معیشت اور عالمی منڈیوں میں رسائی
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ پاکستان کے پاس ثقافتی اثاثوں کا خزانہ ہے، تاہم اس کی عالمی شناخت بڑھانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت کے 30 اور چین کے 60 مقامات کے مقابلے میں پاکستان کے 6 مقامات کے یونیسکو فہرست میں شامل ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت کے طور پر لاہور میں منعقد ہونے والے پروگراموں میں کراچی اور اسلام آباد سمیت رکن ممالک کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ مل کر کاریگروں کی تربیت کے لیے ورکشاپس کے انعقاد اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر زور دیا تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
کاروباری برادری کا کردار اور تجاویز

صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے کہا کہ تخلیقی معیشت پاکستان کی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کاریگروں، ڈیزائنرز اور صنعت کاروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ اس موقع پر ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نائلہ ندیم، ہما ندیم اور شاہ بہرام نے تجویز دی کہ نجی شعبہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کے تحت تاریخی مقامات کی تزئین و آرائش اور دیکھ بھال میں تعاون کرے۔
ثقافتی سیاحت کے ذریعے معاشی ترقی
وفاقی سیکریٹری اسد رحمن گیلانی نے کہا کہ بہاولپور کی کڑھائی، اجرک، زیورات اور ٹرک آرٹ جیسے فن پاروں کو جدید ڈیزائن کے ساتھ عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ہوٹلنگ، سیکیورٹی اور ٹرانسپورٹ کی معیاری سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ سردار عثمان غنی نے بھی اس خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی ورثے کو معاشی سرگرمیوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اہم سوالات و جوابات
لاہور کو کس تنظیم کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے؟
لاہور کو 2026-27 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔
تخلیقی معیشت کو فروغ دینے کا کیا مقصد ہے؟
اس کا مقصد پاکستان کی روایتی دستکاریوں، فنون اور ثقافتی ورثے کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
تبصرے (2)