راولپنڈی چیمبر کا پراپرٹی ٹیکس اور صفائی فیس پر تحفظات کا اظہار

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) نے پراپرٹی ٹیکس کی نئی اسیسمنٹ اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی فیس کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آر سی سی آئی کے صدر نوشیروان خلیل خان کی قیادت میں ایک وفد نے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی ڈویژن نعمان خالد سے ملاقات کی، جس میں کاروباری برادری پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ملک میں توانائی کے اخراجات، یوٹیلیٹی بلز اور مجموعی کاروباری لاگت میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ وفد میں سینئر نائب صدر وسیم اسلم، نائب صدر اکرام عباسی، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور مختلف کاروباری شعبوں کے نمائندگان شامل تھے۔
اہم نکات
- پراپرٹی ٹیکس کے نئے تعین اور صفائی فیس کے نفاذ سے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
- آر سی سی آئی نے واسا اور محکمہ ایکسائز کو پہلے سے ادائیگیوں کے باوجود نئی فیس کو دوہرا ٹیکس قرار دیا ہے۔
- پراپرٹی ٹرانسفر اور تجارتی این او سی کو صفائی فیس سے مشروط کرنے پر شدید اعتراض اٹھایا گیا۔
- چیمبر نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس پالیسیاں شفاف اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کی جائیں۔
- متنازعہ بلوں کے تصفیے تک جرمانے اور اضافی سرچارجز معطل کرنے کی سفارش کی گئی۔
راولپنڈی چیمبر کے تحفظات اور تجاویز
آر سی سی آئی نے پراپرٹی کی منتقلی اور دیگر تجارتی معاملات کے لیے لازمی این او سی (NOC) کے حصول کو صفائی فیس کی ادائیگی سے مشروط کرنے کو کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ صدر نوشیروان خلیل خان نے کہا کہ جن صورتوں میں صفائی فیس کے بل ابھی تک موصول نہیں ہوئے، وہاں این او سی کا حصول مشروط کرنا قانونی ٹرانزیکشنز کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ مزید پڑھیں: اسلام آباد میں دانش سکول کا قیام، وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب
چیمبر نے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی فیس کا تعین تازہ فیلڈ سروے اور سروس کوریج کی بنیاد پر کیا جائے، جبکہ چھوٹے کاروباروں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج متعارف کرایا جائے۔ نوشیروان خلیل خان نے مزید کہا کہ برآمدات کا فروغ مضبوط معیشت کی بنیاد ہے، علی حسام اصغر، اس لیے ضروری ہے کہ پراپرٹی ٹیکس کے طریقہ کار میں موجود بے ضابطگیوں کو فوری ختم کیا جائے تاکہ کاروباری طبقے کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔

کاروباری لاگت میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات
وفد نے تجویز دی کہ بلنگ تنازعات کے حل کے لیے ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے اور آن لائن شکایات کی سہولت فراہم کی جائے۔ اڑان پاکستان کے اہداف کیلئے زراعت اور برآمدات میں ہنگامی اقدامات ضروری ہیں، لہٰذا موجودہ ٹیکس پالیسیوں کا جائزہ لے کر انہیں قابلِ عمل بنایا جائے۔ چیمبر نے مطالبہ کیا کہ مناسب مہلت اور اقساط میں ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ کاروباری برادری کو مالی بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اہم سوالات و جوابات
آر سی سی آئی کا پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے اہم مطالبہ کیا ہے؟
چیمبر نے پراپرٹی ٹیکس کے طریقہ کار میں موجود بے ضابطگیوں کے خاتمے اور منصفانہ اسیسمنٹ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کاروباری برادری پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
صفائی فیس کے نفاذ سے تاجروں کو کیا مشکل درپیش ہے؟
تاجروں کو این او سی کے حصول کے لیے صفائی فیس کی ادائیگی لازمی قرار دیے جانے پر تحفظات ہیں، خاص طور پر ان صورتوں میں جہاں بل ابھی تک جاری یا موصول نہیں ہوئے ہیں۔
تبصرے (2)