نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایس سی او اجلاس کی تیاریاں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے سربراہ اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کے آئندہ اجلاس کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔
اہم نکات
- نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اجلاس کی صدارت کی۔
- شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کا اجلاس 2027 میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوگا۔
- اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری دفاع اور چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شرکت کی۔
- انتظامات پر پیش رفت اور گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایس سی او اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کونسل کا اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں ہوگا۔ اس اہم ایونٹ کے انعقاد کے لیے ملکی سطح پر تیاریاں جاری ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری دفاع، چیئرمین سی ڈی اے اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جنہوں نے سربراہ اجلاس کے انتظامات پر پیش رفت اور گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔
رابطوں کو مضبوط بنانے کا عزم
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کو رکن ممالک کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی ترجیحات کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ اجلاس کے کامیاب اور خوش اسلوبی سے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر تیاریاں باہمی رابطے اور بروقت انداز میں مکمل کی جائیں تاکہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس ایک مثالی ثابت ہو۔
اہم سوالات و جوابات
ایس سی او کے سربراہان مملکت کی کونسل کا اجلاس کب اور کہاں ہوگا؟
یہ اجلاس 2027 میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
اس اجلاس کے دوران کن امور کا جائزہ لیا گیا؟
اجلاس میں سربراہ اجلاس کے انتظامات پر پیش رفت اور گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔