یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ یمن کے حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے ایک بار پھر اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ برسوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد یمن دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جبکہ اس کے اثرات ایران، سعودی عرب اور پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یمن میں بحرانی صورتحال کے بڑھتے خدشات
ایک حالیہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد اگرچہ یمن میں نسبتاً سکون رہا، تاہم حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے اپنی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں نے خطے میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان بھی اپنی علاقائی سفارتکاری کے ذریعے امن کے قیام پر زور دے رہا ہے، جیسا کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز درپیش ہیں، وفاقی وزیر خزانہ نے عالمی تنازعات کے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاقائی تجارت اور سکیورٹی پر خطرات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی اب خود کو ایران کے علاقائی اتحادیوں کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں اور ان کی سرگرمیاں صرف غزہ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم عالمی بحری راستوں پر بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں، جو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جس طرح ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے سعودی اور عمانی وزراء سے رابطے میں دیکھی گئی، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سفارتی کوششیں انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔
سعودی عرب کی سفارتی کوششیں اور حوثیوں کا ردعمل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب یا بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملے مزید تیز کیے تو سعودی عرب اور اس کے اتحادی دوبارہ فوجی کارروائی پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے یمن میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے یمن سے اپنی براہ راست فوجی مداخلت کم کرنے اور ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم حوثیوں کی حالیہ سرگرمیاں ان کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں، جیسے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی قطری وزیر داخلہ سے اہم ملاقات ہوئی، جو بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کے فروغ کا حصہ ہے۔
جدید ہتھیار اور مستقبل کے چیلنجز
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے پاس جدید ڈرونز، بیلسٹک میزائل اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ہتھیار موجود ہیں، جنہیں مغربی ممالک ایران کی معاونت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اگرچہ تہران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیجی خطے میں عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی سلامتی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔