پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز درپیش ہیں، وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ منگل کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دورے کے موقع پر نیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچاؤ اور عوام کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی: وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت اہم فیصلوں کی منظوری کے تسلسل میں یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور حکومتی حکمت عملی
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے موسمیاتی موافقت، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے، پانی کے بہتر انتظام، زرعی شعبے کی مضبوطی اور ماحول دوست ترقی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ جیسے کہ ماہرین اکثر لاہور سمیت عالمی شہر ڈے زیرو کے سنگین بحران کے دہانے پر خبردار کر چکے ہیں، ہمیں آبی وسائل کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
عوامی آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری
وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ عوامی شعور اور اجتماعی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں میں ماحول کے تحفظ، پانی کے محتاط استعمال، شجرکاری اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت گندم بورڈ کا اجلاس جیسے فورمز بھی زرعی تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عالمی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے ایسے منصوبوں کو آگے بڑھاتی رہے گی جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں کمی، معاشی استحکام، ماحول دوست ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوں۔