مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

لاہور سمیت عالمی شہر ڈے زیرو کے سنگین بحران کے دہانے پر

لاہور سمیت عالمی شہر ڈے زیرو کے سنگین بحران کے دہانے پر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ دنیا بھر میں پانی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے اور لاہور سمیت متعدد بڑے شہر اس خطرناک مرحلے کے قریب پہنچ چکے ہیں جہاں حکام کو اس دن کی منصوبہ بندی کرنا پڑ رہی ہے جب شہریوں کے گھروں میں پانی کے نل بند کرنا پڑیں گے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی، طویل خشک سالی، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال، آبی ذخائر کی کمی اور ناقص آبی انتظام دنیا کے کئی بڑے شہروں کو ‘ڈے زیرو’ (Day Zero) کے خطرناک مرحلے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

ڈے زیرو کا تصور اور عالمی صورتحال

SpaceDaily کی رپورٹ، جو ماحولیاتی تحقیقی پلیٹ فارم The Conversation میں شائع ہونے والے ماہرین کے تجزیے پر مبنی ہے، کے مطابق ‘ڈے زیرو’ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب کسی شہر کا آبی نظام معمول کے مطابق گھروں، کاروباری مراکز اور دیگر صارفین کو پانی فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں حکومتوں کو گھریلو سپلائی بند کرکے پانی مخصوص مراکز سے راشن کی بنیاد پر پانی فراہم کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اب محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ دنیا کے کئی بڑے شہروں کے لیے ایک حقیقی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ جیسا کہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان، معمولی کمی جیسے معاشی فیصلوں کی طرح آبی وسائل کا انتظام بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔

متاثرہ شہروں کی فہرست اور زمینی حقائق

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن شہروں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں ان میں لاہور، میکسیکو سٹی، جوہانسبرگ، کیپ ٹاؤن، جکارتہ، دہلی، بیجنگ، قاہرہ اور بوگوٹا سمیت دیگر بڑے شہری مراکز شامل ہیں۔ بعض شہروں میں لاکھوں افراد پہلے ہی پانی کی راشن بندی، کم پریشر سپلائی یا کئی کئی دن پانی کی بندش کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔ جس طرح عبدالعلیم خان کا سکردو گلگت روڈ پر سیلاب سے متاثرہ پل کا معائنہ حکومتی توجہ کا متقاضی ہے، اسی طرح آبی انفراسٹرکچر کی بہتری بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

مستقبل کے چیلنجز اور ممکنہ حل

ماہرین کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں کے غیر متوقع نظام، شدید گرمی کی لہریں اور طویل خشک سالی ڈیموں اور آبی ذخائر کی سطح کو خطرناک حد تک کم کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانا اور بوسیدہ واٹر سپلائی انفراسٹرکچر بھی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور ماہرین ماحولیات پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر پانی کے وسائل کا پائیدار انتظام نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں پانی پر تنازعات اور معاشی نقصانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی: وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت اہم فیصلوں کی منظوری کے عمل سے معاشی استحکام جڑا ہے، ویسے ہی پانی کی پالیسی بھی قومی سلامتی کا حصہ ہے۔ ماہرین بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، پانی کی ری سائیکلنگ اور جدید آبپاشی نظام کے فروغ پر زور دے رہے ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں