مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اسحاق ڈار کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت، وسیع تر علاقائی تصادم سے خبردار

اسحاق ڈار کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت، وسیع تر علاقائی تصادم سے خبردار

اسحاق ڈار کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت، وسیع تر علاقائی تصادم سے خبردار

اسلام آباد، 5 اگست: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان وسیع تر تصادم کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت عمان میں “مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں بگڑتی ہوئی صورتحال” پر منعقدہ وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی قابض افواج کی سرپرستی اور اسرائیلی وزرا کی حوصلہ افزائی سے ہونے والی یہ کارروائیاں بیت المقدس کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہیں، جس سے دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں، اور ان کی حیثیت تبدیل کرنے کے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم اور غیر مؤثر ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بیت المقدس میں اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر ہاشمی سرپرستی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اردن کی وزارت اوقاف سے وابستہ بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کے ادارے کو مسجد اقصیٰ کے انتظام کا واحد قانونی اختیار تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا 144 دونم رقبہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اسے تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور منصفانہ و دیرپا امن کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور بالخصوص مغربی کنارے میں فلسطینی عوام پر مظالم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود انسانی بحران بدستور سنگین ہے۔ تقریباً 59 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جبکہ جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جس سے امن منصوبے پر مؤثر عملدرآمد پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 20 لاکھ فلسطینی غزہ کے صرف 30 فیصد علاقے تک محدود ہو کر انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی روکنے، بیت المقدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے تحفظ، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں اور الحاق کی کوششوں کو مسترد کرنے، غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد، شہریوں کے خلاف جرائم کے احتساب اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر فلسطین کے منصفانہ سیاسی حل کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔

اسحاق ڈار نے غزہ امن منصوبے کے تحت تخفیف اسلحہ کے عمل میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ امن منصوبے کے تمام وعدوں پر مکمل عملدرآمد سے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں