اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی دوڑ میں 8 امیدوار شامل، خاتون امیدواروں کو بھی مضبوط موقع

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی دوڑ میں 8 امیدوار شامل، خاتون امیدواروں کو بھی مضبوط موقع
نیویارک: اقوام متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری اور آخری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہوجائے گی، جس کے بعد عالمی ادارے کے نئے سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ نئے سیکریٹری جنرل کی پانچ سالہ مدت یکم جنوری 2027 سے شروع ہوگی۔
رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے منصب کے لیے اس وقت 8 امیدوار میدان میں ہیں۔ 21 اگست کو ہونے والے دوسرے غیر رسمی مشاورتی جائزے میں گیانا کی کیرولین روڈریگز برکٹ معمولی برتری کے ساتھ سرفہرست رہیں، تاہم کسی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں اور حتمی انتخاب کے لیے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔
اس اہم عہدے کے لیے امیدواروں میں ارجنٹائن کے سفارت کار اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی، کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (UNCTAD) کی سربراہ ریبیکا گرینسپین، چلی کی سابق صدر مشیل باشلے، سینیگال کے سابق صدر میکی سال، ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ ماریا فرناندا اسپینوسا، گیانا کی مستقل نمائندہ کیرولین روڈریگز برکٹ، یوگنڈا کے سابق اعلیٰ اقوام متحدہ عہدیدار اولارا اوتونو اور ایکواڈور کی سفارت کار ایون بیکي شامل ہیں۔
رافائل گروسی
65 سالہ رافائل گروسی ارجنٹائن کے کیریئر سفارت کار ہیں اور گزشتہ چھ برس سے IAEA کے ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی مذاکرات اور نگرانی کے معاملے میں ان کا اہم کردار رہا ہے، جس نے انہیں بین الاقوامی سفارت کاری میں نمایاں مقام دلایا۔
گروسی نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازع کے حوالے سے سفارتی کوششوں میں حصہ لیا جبکہ یوکرین میں روس کے زیر قبضہ زاپوریژیا جوہری بجلی گھر میں IAEA کی ٹیم کی موجودگی برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کیا۔
کئی سفارت کار انہیں مضبوط امیدوار تصور کرتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے ساتھ سفارتی معاملات پر کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ تاہم روس کی جانب سے ان کی امیدواری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ریبیکا گرینسپین
70 سالہ ریبیکا گرینسپین کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور UNCTAD کی سربراہ ہیں۔ وہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کی حامی ہیں۔
گرینسپین کے مطابق اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور لچکدار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی بحرانوں سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔
اگر وہ منتخب ہوجاتی ہیں تو وہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکریٹری جنرل ہوں گی۔ ان کی مہم میں صنفی مساوات اور فیصلہ سازی میں خواتین کی مؤثر نمائندگی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
مشیل باشلے
74 سالہ مشیل باشلے چلی کی دو مرتبہ صدر رہ چکی ہیں اور 2018 سے 2022 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
وہ 2010 سے 2013 تک اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین (UN Women) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی رہیں۔ ان کا وسیع سیاسی اور بین الاقوامی تجربہ انہیں اہم امیدواروں میں شامل کرتا ہے۔
باشلے کو ماضی میں برازیل اور میکسیکو کی حمایت حاصل رہی، تاہم مارچ میں چلی نے اپنی سیاسی سمت میں تبدیلی کے بعد ان کی حمایت واپس لے لی۔ انہیں امریکی قدامت پسند حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔
میکی سال
64 سالہ میکی سال ماہر ارضیات اور سینیگال کے سابق صدر ہیں، جنہوں نے 2012 سے 2024 تک ملک کی قیادت کی۔
سال ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے مسائل کے حل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حامی ہیں۔ وہ ترقی پذیر ممالک کو سلامتی کونسل میں مستقل نمائندگی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیتے رہے ہیں۔
ان کی امیدواری برونڈی نے پیش کی ہے۔ اگر وہ منتخب ہوجاتے ہیں تو وہ اقوام متحدہ کے تیسرے افریقی سیکریٹری جنرل ہوں گے۔ ان سے قبل مصر کے بطرس غالی اور گھانا کے کوفی عنان اس منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔
ماریا فرناندا اسپینوسا
61 سالہ ماریا فرناندا اسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور وزیر دفاع رہ چکی ہیں۔ ان کی امیدواری انٹیگوا اینڈ باربوڈا نے پیش کی ہے۔
اسپینوسا اقوام متحدہ میں ایکواڈور کی سفیر اور جنرل اسمبلی کی صدر بھی رہ چکی ہیں، جس کے باعث انہیں عالمی ادارے کے سفارتی اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادیوں کے حقوق سمیت متعدد عالمی معاملات پر کام کیا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کو اپنی ترجیحات واضح کرنے، فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد اور عالمی سطح پر زیادہ فعال سیاسی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
کیرولین روڈریگز برکٹ
گیانا کی کیرولین روڈریگز برکٹ ایک کیریئر سفارت کار اور سابق سیاست دان ہیں اور 2020 سے اقوام متحدہ میں گیانا کی مستقل نمائندہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
وہ گیانا کی پہلی خاتون وزیر خارجہ رہ چکی ہیں اور ملک کی حکومت میں اعلیٰ عہدے تک پہنچنے والی مقامی یا Indigenous پس منظر رکھنے والی اہم شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔
ان کی انتخابی مہم میں تنازعات کی روک تھام، اقوام متحدہ کی کارکردگی بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی اقدامات کو آگے بڑھانا نمایاں نکات ہیں۔
21 اگست کو ہونے والے دوسرے غیر رسمی جائزے میں برکٹ معمولی برتری کے ساتھ سب سے آگے رہیں۔ تاہم یہ عمل خفیہ سفارتی مشاورت کا حصہ ہے اور اسے حتمی ووٹنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اولارا اوتونو
یوگنڈا کے سفارت کار اولارا اوتونو اقوام متحدہ کے سابق انڈر سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں اور ان کی امیدواری یوگنڈا نے پیش کی ہے۔
75 سالہ اوتونو موجودہ امیدواروں میں سب سے عمر رسیدہ ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور عالمی اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ادارے میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہیں۔
اوتونو کے مطابق اقوام متحدہ کو بیوروکریسی اور غیر مؤثر طرز حکمرانی سمیت مختلف مسائل سے نمٹنے کے لیے بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی، بصورت دیگر عالمی ادارے کی کارکردگی اور ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔
ایون بیکي
ایکواڈور کی سفارت کار ایون بیکي نے اگست میں سیکریٹری جنرل کی دوڑ میں شمولیت اختیار کی اور انہیں ٹونگا نے امیدوار نامزد کیا ہے۔ وہ متعدد ممالک میں ایکواڈور کی سفیر رہ چکی ہیں اور مختلف حکومتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکی ہیں۔
75 سالہ بیکي لبنان میں 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران وہاں مقیم رہیں۔ وہ اپنی انتخابی مہم میں اس تجربے کو تنازعات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لیے اپنی ترجیحات سے جوڑ رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو صرف نیویارک میں بیٹھ کر عالمی مسائل سے نمٹنے کے بجائے تنازعات اور کشیدگی کے مراکز میں براہ راست موجود ہوکر امن کے لیے کام کرنا چاہیے۔
انتخاب کا طریقہ کار
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا انتخاب کئی مراحل پر مشتمل ایک پیچیدہ سفارتی عمل ہے۔ امیدوار پہلے رکن ممالک کے سامنے اپنی ترجیحات اور وژن پیش کرتے ہیں، جس کے بعد سلامتی کونسل میں غیر رسمی مشاورت اور جائزوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
حتمی امیدوار کے لیے سلامتی کونسل کی حمایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کونسل کے پانچ مستقل ارکان، یعنی امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس میں سے کسی ایک کا ویٹو امیدوار کی نامزدگی روک سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے امیدوار کی سفارش کیے جانے کے بعد معاملہ جنرل اسمبلی میں جاتا ہے، جہاں رکن ممالک نئے سیکریٹری جنرل کی تقرری کی منظوری دیتے ہیں۔
انتونیو گوتریس کی مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہونے کے بعد نیا سیکریٹری جنرل یکم جنوری 2027 کو منصب سنبھالے گا۔
موجودہ انتخاب میں ایک خاتون کو پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی سربراہ مقرر کیے جانے کا امکان بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ 80 سالہ تاریخ میں اب تک کوئی خاتون اس منصب پر فائز نہیں ہوئی۔ تاہم حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سمیت بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی اتفاقِ رائے پر منحصر ہوگا۔