امریکا، کینیڈا ٹیرف مذاکرات ناکام، 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف کے جواب میں کینیڈا کا ڈالر کے بدلے ڈالر جوابی اقدام

امریکا، کینیڈا ٹیرف مذاکرات ناکام، 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف کے جواب میں کینیڈا کا ڈالر کے بدلے ڈالر جوابی اقدام
اوٹاوا: امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری تجارتی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد دونوں اتحادی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی امریکی درآمدات کے خلاف ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر جوابی کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔
مارک کارنی کے مطابق کینیڈا 8 ستمبر 2026 سے امریکا سے درآمد ہونے والی مختلف مصنوعات پر نئے جوابی محصولات عائد کرے گا۔ کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ حکومت امریکی اقدامات کے اثرات سے ملکی صنعت، کاروباری اداروں اور کارکنوں کو تحفظ دینے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔
امریکی حکومت نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کیا ہے۔ یہ کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی مجموعی برآمدات کا تقریباً 5 فیصد ہے۔ نئے ٹیرف کے دائرے میں شراب، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، الیکٹرانکس، فرنیچر، کاغذی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی و صارفین کی اشیا شامل ہیں، تاہم توانائی، پوٹاش اور بعض دیگر اہم شعبوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔
امریکا اور کینیڈا کے درمیان مذاکرات گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھے اور ایک مرحلے پر فریقین کے درمیان ممکنہ تجارتی سمجھوتے کے امکانات بھی پیدا ہوگئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق زیر غور تجاویز میں کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر امریکی ٹیرف 25 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے جبکہ اسٹیل اور ایلومینیم پر بنیادی ٹیرف 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکی مطالبات اور شرائط پر اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ کینیڈین وزیراعظم نے امریکی شرائط کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بعض مطالبات کینیڈا کی معیشت اور قومی خودمختاری کے لیے قابل قبول نہیں۔
کارنی نے 21 اگست کو امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کینیڈین مذاکرات کاروں کو واپس اوٹاوا طلب کرلیا۔ دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کینیڈا پر الزام عائد کیا کہ اس نے مذاکرات میں ایک اہم موقع ضائع کردیا۔ امریکی حکام کے مطابق فی الحال مذاکرات کے نئے دور کا کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا۔
کینیڈا نے امریکا کے نئے ٹیرف کے جواب میں 8 ستمبر سے مختلف امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوٹاوا کے مطابق جوابی اقدامات کا مقصد امریکی ٹیرف کے معاشی اثرات کو متوازن کرنا اور کینیڈین صنعتوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
کینیڈا پہلے ہی بعض امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرچکا ہے۔ اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوموبائل سے متعلق بعض امریکی مصنوعات پر محصولات پہلے سے نافذ ہیں، جبکہ حکومت نے تجارتی تنازع سے متاثرہ صنعتوں اور کارکنوں کے لیے امدادی اقدامات کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات انتہائی وسیع اور باہمی انحصار پر مبنی ہیں۔ کینیڈا کی تقریباً 70 فیصد برآمدات امریکی مارکیٹ کو جاتی ہیں، اس لیے امریکی ٹیرف میں اضافے سے کینیڈین صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکا بھی کینیڈا سے توانائی سمیت متعدد اہم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک کی سپلائی چینز بالخصوص آٹوموبائل، توانائی، اسٹیل، ایلومینیم اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ایک دوسرے سے گہری طرح منسلک ہیں، جس کے باعث طویل تجارتی تنازع دونوں معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
تجارتی کشیدگی کا اثر امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان موجود USMCA تجارتی معاہدے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تینوں ممالک معاہدے کے آئندہ جائزے کی تیاری کررہے ہیں، تاہم امریکا اور کینیڈا کے درمیان تازہ اختلافات نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کینیڈا نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا بلکہ دیگر عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور اپنی برآمدات کو متنوع بنانے پر بھی توجہ مرکوز کررہا ہے۔ اوٹاوا کا کہنا ہے کہ امریکا اس کا اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے، تاہم موجودہ صورتحال نے کینیڈا کو دیگر عالمی اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر مجبور کیا ہے۔
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان نئے مذاکرات کا کوئی باقاعدہ شیڈول موجود نہیں۔ امریکا کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف نافذ کیے جاچکے ہیں جبکہ کینیڈا 8 ستمبر سے جوابی محصولات عائد کرے گا۔ اس صورتحال نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات کو ایک نئے بحران سے دوچار کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی معیشتوں کے باہمی انحصار کے باعث طویل تجارتی جنگ کاروباری اداروں، صنعتوں اور صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم موجودہ مرحلے پر واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان اختلافات اور اعتماد کے فقدان کے باعث فوری تجارتی سمجھوتے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔