مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکا کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں، 60 ادارے، افراد اور بحری جہاز نشانے پر

امریکا کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں، 60 ادارے، افراد اور بحری جہاز نشانے پر

امریکا کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں، 60 ادارے، افراد اور بحری جہاز نشانے پر

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایران سے وابستہ 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر نئی سخت پابندیاں عائد کردی ہیں، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کو عالمی معیشت سے الگ تھلگ کرنے کی مہم شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امریکا کے ساتھ معاشی خوشحالی چاہتے ہیں یا ایران کے ساتھ اقتصادی تنہائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں، یا تو وہ اقتصادی تنہائی کا سامنا کرے یا عالمی معیشت میں دوبارہ شمولیت کا انتخاب کرے۔

اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق نئی پابندیوں کے تحت پانچ اہم شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کی آمدنی کے اہم ذرائع کی نشاندہی کرلی ہے اور واشنگٹن انہیں نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک یا ادارے ایرانی حکومت کی معاونت جاری رکھیں گے، وہ بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان خارج از امکان نہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران سمیت تمام محاذوں پر کامیاب ہو رہا ہے اور تہران اقتصادی و عسکری زوال کا شکار ہے۔

دوسری جانب چین نے امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں مسائل کے حل میں مدد نہیں دیتیں اور بیجنگ اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے تجارتی شراکت دار امریکی بیانات کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ایرانی وزیر تجارت علی مدنی زادہ نے امریکی پابندیوں کے مقابلے کے لیے دو سالہ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور واشنگٹن کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے امریکی معاشی پابندیوں کے منصوبے کو ایرانی عوام پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی مہم قرار دیا ہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی بھی برقرار ہے۔ حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے عرشے پر آگ بھڑک اٹھی۔ تہران نے مبینہ طور پر مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 45 آئل ٹینکرز کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو امریکی توانائی کے اہم مراکز اور دیگر اہم مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کی بنیادی وجہ فلسطین کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے دیرینہ ہدف کو عملی شکل دینے پر زور دیا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح سے ملاقات میں کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کا خطہ ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور متعلقہ فریقوں کو جلد از جلد مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی جانب واپس آنا چاہیے۔

دریں اثنا عالمی توانائی ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ تزویراتی تیل کے ذخائر کے نئے اجرا کا فی الحال کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں