مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

انگلینڈ کے دورے پر گئی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر گوروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا

انگلینڈ کے دورے پر گئی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر گوروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا (تصویر 1)

انگلینڈ کے دورے پر گئی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر گوروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا

پورٹسماؤتھ، 9 ستمبر: انگلینڈ کے شہر پورٹسماؤتھ میں ایک حیران کن اور غیر معمولی صورتحال اس وقت پیدا ہوگئی جب انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر تقریباً 40 سے 50 افراد نے ہوٹل کے باہر احتجاج شروع کردیا۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط اطلاعات کے باعث مظاہرین کا خیال تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کا ایک نیا گروپ کوچ کے ذریعے ہوٹل منتقل کیا گیا ہے، تاہم حقیقت سامنے آنے پر معلوم ہوا کہ ہوٹل میں قیام کرنے والے نوجوان دراصل پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھے۔

واقعہ منگل کی شام پورٹسماؤتھ کے میریئٹ ہوٹل کے باہر پیش آیا جہاں پاکستانی نوجوان کرکٹرز انگلینڈ کے دورے کے دوران قیام پذیر تھے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایک کوچ کے ذریعے متعدد نوجوان ایشیائی افراد کو ہوٹل پہنچتے دیکھ کر سوشل میڈیا پر یہ افواہ تیزی سے پھیل گئی کہ تارکین وطن کو ہوٹل میں منتقل کیا جارہا ہے۔ اسی افواہ کے بعد تقریباً 40 سے 50 افراد ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے، جن میں بعض نے چہرے بھی ڈھانپ رکھے تھے۔

انگلینڈ کے دورے پر گئی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر گوروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا (تصویر 2)

صورتحال اس لیے بھی زیادہ حساس ہوگئی تھی کہ پورٹسماؤتھ میں چند روز قبل ہی تارکین وطن کی آمد کے خلاف بڑے احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوچکی تھیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایک ہی کوچ کمپنی کی بسوں کے ذریعے پہلے پناہ کے متلاشی افراد کو منتقل کیے جانے کی اطلاعات بھی موجود تھیں، جس کے باعث مقامی افراد نے پاکستانی کرکٹرز کو بھی غلطی سے تارکین وطن سمجھ لیا۔

مظاہرین کے جمع ہونے کی اطلاع ملنے پر ریفارم یوکے کے ہیمپشائر کاؤنٹی کونسل میں گروپ لیڈر جارج میڈگوک موقع پر پہنچے۔ انہوں نے ہوٹل انتظامیہ سے بات کی تو انہیں بتایا گیا کہ وہاں پناہ کے متلاشی افراد نہیں بلکہ پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم قیام پذیر ہے۔ میڈگوک نے پاکستانی ٹیم کے کوچ سے بھی ملاقات کی اور انہیں ٹیم کی شناخت کے ثبوت دکھائے گئے۔

جارج میڈگوک نے بعد میں مظاہرین سے بات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اور ہوٹل میں موجود افراد تارکین وطن نہیں بلکہ کرکٹرز ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق وضاحت ملتے ہی مظاہرین نے صورتحال کو تسلیم کیا اور چند ہی منٹ میں وہاں سے منتشر ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی ٹیم اور مظاہرین کے درمیان کوئی براہ راست تصادم یا جھڑپ نہیں ہوئی۔

انگلینڈ کے دورے پر گئی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھ کر گوروں نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا (تصویر 3)

ہیمپشائر پولیس کے مطابق پولیس کو شام ساڑھے چھ بجے سے کچھ دیر قبل ہوٹل کے باہر افراد کے جمع ہونے کی اطلاع دی گئی۔ پولیس اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات کی اور صورتحال واضح کی۔ پولیس کے مطابق واقعے میں کسی جرم کی نشاندہی نہیں ہوئی اور بعد ازاں تقریباً 30 افراد رات 9 بجے سے کچھ دیر قبل وہاں سے چلے گئے۔

واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کرکے نوجوان کھلاڑیوں کی خیریت دریافت کی جبکہ دورے کے باقی حصے کے لیے ٹیم کی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان انڈر 19 ٹیم اس وقت انگلینڈ کے دورے پر ہے۔ پاکستانی نوجوانوں نے حال ہی میں انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف چار روزہ ٹیسٹ میچ کھیلا تھا جس میں اسے صرف 10 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے دورے میں مزید میچز بھی شیڈول ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب پورٹسماؤتھ میں غیر قانونی ہجرت اور پناہ کے متلاشی افراد کی آمد کے معاملے پر پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔ چند روز قبل سیکڑوں مظاہرین نے تارکین وطن کی آمد کے خلاف احتجاج کیا تھا، بعض مظاہرین نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ برطانوی حکومت نے ان مظاہروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں