اٹلی میں سولر پینلز کے سائے میں انگور کی پیداوار میں 277 فیصد اضافہ

اٹلی میں سولر پینلز کے سائے میں انگور کی پیداوار میں 277 فیصد اضافہ
روم: اٹلی کے جنوبی علاقے پگلیا میں محققین نے زرعی زمین پر سولر پینلز نصب کرکے انگور کی کاشت کا ایسا تجربہ کیا ہے جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ سولر پینلز کے نیچے اگنے والی انگور کی بیلوں سے مکمل دھوپ میں اگنے والی بیلوں کے مقابلے میں انگور کی پیداوار 277 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
یہ تحقیق ’’ایگری وولٹائکس‘‘ (Agrivoltaics) کے تصور کے تحت کی گئی، جس میں ایک ہی زمین پر زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ سولر پینلز کے ذریعے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ پگلیا میں کیے گئے تجربے کے نتائج فروری 2025 میں سائنسی جریدے Horticulturae میں شائع ہوئے تھے۔

تحقیق کے مطابق سولر پینلز نے انگور کی بیلوں کو مکمل دھوپ سے جزوی سایہ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں زمین کا درجہ حرارت نسبتاً متوازن رہا اور مٹی میں نمی زیادہ برقرار رہی۔ اس کے علاوہ پینلز کے نیچے ہوا کی رفتار اور فضا کی خشکی بھی کم ہوئی، جس سے بیلوں کے گرد زیادہ سازگار مائیکرو کلائمیٹ تشکیل پایا۔
محققین کے مطابق پینلز کی چھت نما ساخت نے بیلوں کو شدید دھوپ اور گرمی کے اثرات سے تحفظ فراہم کیا، جس سے پودوں پر پانی کی کمی اور گرمی کا دباؤ کم ہوا۔ نتیجتاً سایہ دار بیلوں میں پھل دینے والی کلیوں کی کارکردگی بھی بہتر دیکھی گئی اور مجموعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ نتائج اس لیے بھی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کہ بحیرہ روم کے خطے میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت، خشک سالی اور پانی کی قلت انگور سمیت متعدد فصلوں کے لیے بڑے چیلنج بن رہے ہیں۔ سولر پینلز سے پیدا ہونے والا سایہ ایسے علاقوں میں فصلوں کو شدید گرمی سے بچانے اور مٹی کی نمی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ایگری وولٹائکس نظام کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسان ایک ہی زمین سے دو طرح کی پیداوار حاصل کرسکتے ہیں: فصل بھی اور شمسی بجلی بھی۔ اس طرح زرعی زمین کو مکمل طور پر سولر فارم میں تبدیل کرنے کے بجائے دونوں سرگرمیوں کو ایک ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق سولر پینلز کے سائے کا فائدہ ہر فصل، خطے یا موسم میں یکساں نہیں ہوتا۔ تحقیق میں بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں ضرورت سے زیادہ سایہ فصل کی پیداوار کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے پینلز کی اونچائی، زاویہ، روشنی کی مقدار اور فصل کی نوعیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پگلیا کے تجربے نے اس تصور کو ایک نئی اہمیت دی ہے کہ مستقبل کی زراعت میں سولر پینلز صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ فصلوں کے لیے موسمی تحفظ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
محققین کے نتائج کے مطابق اگر مناسب فصل، آب و ہوا اور سولر ڈیزائن کا انتخاب کیا جائے تو ایگری وولٹائکس بڑھتی ہوئی گرمی، پانی کی قلت اور زرعی اخراجات کے مقابلے میں ایک مؤثر موافقتی حکمت عملی ثابت ہوسکتی ہے۔
یوں اٹلی کا یہ تجربہ اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں ’’کھیت یا سولر فارم‘‘ کے بجائے ایک ہی زمین پر ’’کھیت اور سولر فارم‘‘ دونوں بیک وقت قائم کیے جاسکتے ہیں۔