ایران کے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کا 7 روزی پلان امریکہ کو دے دیا، ایرانی وزیر خارجہ

نیویارک: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس پر اتفاق ہونے کی صورت میں ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے اور اس کے بعد امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
عباس عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی تجاویز امریکا تک ثالثوں کے ذریعے پہنچائی گئی ہیں۔ ان کے مطابق تجاویز میں جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق شرائط شامل ہیں اور اگر امریکا ان شرائط پر اتفاق کرتا ہے تو ایران سات روز میں آبنائے ہرمز کھول دے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز نئی نہیں بلکہ اس سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ بحث آنے والی مفاہمت سے متعلق نکات پر مبنی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز میں امریکی فوجی دباؤ میں کمی اور ایرانی بندرگاہوں سے متعلق پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سمیت دیگر اقدامات پر زور دیا ہے۔ تاہم ان شرائط اور تجاویز کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل رائٹرز نے 22 ستمبر کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکا کو جنگ کے خاتمے سے متعلق تجویز پہنچائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں امریکی فوجی دباؤ کم ہونے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کی بات کی گئی تھی۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ تصور کی جاتی ہے۔ ایران کی جانب سے سات روزہ منصوبہ پیش کیے جانے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔