جنگ میں سرنڈر نہیں کریں گے، مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے مگر دھمکی یا دباؤ قبول نہیں، ایرانی صدر کا جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک: (23 ستمبر 2026) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری جنگ میں سرنڈر نہیں کرے گا، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ کھلا ہے، لیکن تہران دھمکی، طاقت یا دباؤ کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
صدر مسعود پزشکیان نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ایران کو زبردستی جھکایا نہیں جا سکتا اور ایرانی عوام دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم مذاکرات باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔
ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور ایران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ ایران کو ایسے الزامات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک روز قبل جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے حوالے سے دی جانے والی دھمکیوں کا بھی جواب دیا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا ایران کو تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی جنرل اسمبلی میں اٹھایا اور کہا کہ یہ قابل قبول نہیں کہ دنیا اس اہم آبی گزرگاہ سے فائدہ اٹھائے جبکہ ایران کو اس کے ذریعے جہاز رانی سے محروم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن بحری بیڑوں کی مستقل تعیناتی اور جنگ کو مزید پھیلانا امن کا باعث نہیں بنے گا۔
رائٹرز کے مطابق صدر پزشکیان کی تقریر شروع ہوتے ہی امریکی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے باہر چلا گیا۔ امریکی مشن نے فوری طور پر اس اقدام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
صدر پزشکیان کا خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی فوجی دباؤ میں کمی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی صدر کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ تہران جنگ جاری رکھنے کو ترجیح نہیں دیتا اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع ختم کرنے کا راستہ موجود ہے، لیکن ایران امریکی دھمکیوں یا فوجی دباؤ کے نتیجے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔