دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے، نئے صوبوں کا فیصلہ ہم نے نہیں، عوام نے کرنا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے، نئے صوبوں کا فیصلہ ہم نے نہیں، عوام نے کرنا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کا اختیار ہے، فوج کا نہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی داخلی سلامتی، دہشت گردی، بلوچستان کی صورتحال، مسئلہ کشمیر اور دیگر قومی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 303 سکیورٹی اہلکار اور 322 شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا مؤقف بالکل واضح ہے، دہشت گرد یا تو ہتھیار ڈالیں گے یا قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور اس حوالے سے ریاست کے پاس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہا ہے، جبکہ بعض دہشت گرد کارروائیوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر کا مقصد پاکستان کے امن، ترقی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں بلکہ اچھی حکمرانی، قانون کی بالادستی، معاشی ترقی اور قومی ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔
نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ فیصلہ فوج نے نہیں بلکہ عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے مطابق نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کیے جاتے ہیں تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں، تاہم یہ مکمل طور پر آئینی اور سیاسی عمل ہے جس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، جبکہ پاک فوج ہر آئینی فیصلے کا احترام کرے گی۔
کشمیر کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وسائل کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو آزاد جموں و کشمیر کو ملک میں سب سے زیادہ وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ تعلق مضبوط اور اٹوٹ ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے، قومی سلامتی کے تحفظ اور ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔