مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

ریاض میں چین اور خلیج تعاون کونسل کا اعلیٰ سطح اجلاس، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ریاض میں چین اور خلیج تعاون کونسل کا اعلیٰ سطح اجلاس، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ریاض میں چین اور خلیج تعاون کونسل کا اعلیٰ سطح اجلاس، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ریاض: سعودی دارالحکومت میں چین اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں چین اور خلیجی ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور بالخصوص آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ نمایاں رہا۔ عرب نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے خلیجی ممالک کے بعد چین کو بھی نمایاں معاشی اور توانائی کے اثرات کا سامنا ہے، کیونکہ چین کی درآمدی تیل کی بڑی مقدار اس اہم بحری راستے سے گزرتی ہے۔

چین نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کی ہیں، تاہم ان کوششوں سے اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کے مؤقف اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چین نے مارچ میں ایران کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی میں رکاوٹ کی مذمت سے متعلق ایک قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، جبکہ بعد ازاں خلیجی ممالک کی جانب سے آزادیِ جہاز رانی کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کردیا تھا۔

شرکا نے اس امر پر بھی غور کیا کہ چین خطے میں بحری سفارت کاری کے حوالے سے زیادہ فعال کردار ادا کرسکتا ہے۔ بیجنگ کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جبکہ چین آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت اہم بحری راستوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی حمایت کرتا ہے۔

چین اور GCC کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات بھی اجلاس کے ایجنڈے کا اہم حصہ رہے۔ دونوں جانب تجارت کا حجم 1992 میں تقریباً 2 ارب ڈالر تھا جو گزشتہ سال بڑھ کر تقریباً 319 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ رقم خلیجی ممالک کی مجموعی بیرونی تجارت کا تقریباً 19 فیصد بنتی ہے۔ چین ایک دہائی سے زائد عرصے سے خلیج تعاون کونسل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

اجلاس میں چین اور GCC کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مجوزہ معاہدے کے تحت بیشتر اشیا پر ٹیرف میں کمی یا خاتمے کے ساتھ دونوں جانب کاروباری اداروں کے لیے مارکیٹ تک رسائی مزید آسان بنانے کی توقع ہے۔

چین اور خلیج تعاون کونسل نے 2022 میں چینی صدر شی جن پنگ کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی تھی۔ اس کے بعد دونوں جانب تعاون کا دائرہ تجارت اور سرمایہ کاری سے بڑھ کر سیاسی و اسٹریٹجک امور، سیکیورٹی، دفاع، ہنگامی ردعمل، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی سمیت مختلف شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

اجلاس میں سیاسی، سیکیورٹی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں چین-GCC اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے عملی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ان تجاویز کو رواں سال کے اختتام پر GCC کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ مستقبل میں چین-GCC سربراہ اجلاس کے انعقاد کی تیاریوں پر بھی کام جاری ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں