مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کردیا، 15 روز میں خلافِ ضابطہ تعمیرات ختم کرنے کی ہدایت

سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کردیا، 15 روز میں خلافِ ضابطہ تعمیرات ختم کرنے کی ہدایت

سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کردیا، 15 روز میں خلافِ ضابطہ تعمیرات ختم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس فور میں واقع رہائش گاہ پر غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کردیا ہے اور 15 روز کے اندر خلاف ورزیاں ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

نوٹس کے مطابق رہائش گاہ کے سیٹ بیکس میں غیرقانونی تعمیرات کی گئی ہیں، جبکہ سی ڈی اے کی زمین پر سیکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ تمام نشاندہی شدہ خلاف ورزیاں 15 روز کے اندر ختم کی جائیں۔

سی ڈی اے کے نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ عمارت کے مالک کی جانب سے 18 مارچ 2019 کو این او سی کے اجرا کے وقت حلف نامہ جمع کرایا گیا تھا، جس میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سیٹ بیکس کی خلاف ورزیاں تین ماہ میں ختم کردی جائیں گی، تاہم اتھارٹی کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

سی ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے کی صورت میں عمارت سیل کرنے اور غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی کی جاسکتی ہے، جبکہ الاٹمنٹ منسوخی کا کیس بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

مولانا اسجد محمود کا کہنا ہے کہ پشاور میں کور کمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشاندہی کرنے کے بعد انتقامی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ جب اس معاملے پر کوئی جواب نہیں ملا تو مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوٹس میں سیکیورٹی گارڈ کا کیبن ہٹانے، جنریٹر منتقل کرنے اور اضافی کچن کی تعمیر پر بھی اعتراضات کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول ملک کے تمام ادارے ایک شخص کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

مولانا اسجد محمود نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا قابل تشویش ہے، قوم اور جمعیت کے کارکنان حالات سے باخبر اور بیدار رہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں