مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان 2030 تک ویکسین خریداری میں خود کفیل ہو جائے گا

وفاقی وزیر سید مصطفی کمال قومی اسمبلی میں پاکستان 2030 تک ویکسین کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفی کمال نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے لیے غیر ملکی مالی معاونت سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گا، جبکہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے جدید بارکوڈ کا نظام نومبر کے اختتام تک نافذ کر دیا جائے گا۔

اہم نکات

  • پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے تمام 1.2 ارب ڈالر سالانہ اخراجات خود برداشت کرے گا۔
  • جعلی ادویات کی پہچان کے لیے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بارکوڈ سسٹم نومبر کے آخر تک فعال ہوگا۔
  • اسلام آباد میں چین کے تعاون سے قائم ہسپتال کو انڈس ہسپتال کے اشتراک سے فعال کر دیا گیا ہے۔
  • ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی کام کر رہی ہے۔

ویکسین کی مقامی پیداوار اور خود انحصاری

جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سید مصطفی کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان 13 بیماریوں کے لیے ویکسین درآمد کرتا ہے جس کا 49 فیصد خرچ بین الاقوامی شراکت دار اٹھاتے ہیں۔ حکومت اس انحصار کو ختم کرنے کے لیے مقامی پیداوار پر توجہ دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ صحت کے شعبے میں غیر ملکی معاونت کل اخراجات کا تین فیصد سے بھی کم ہے۔ جہاں پاکستان کا سمندری تحفظ کیلئے ابھرتی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کا مطالبہ ایک اہم پیشرفت ہے، وہیں صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔

جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے بارکوڈ سسٹم

سید مصطفی کمال نے بتایا کہ بارکوڈ منصوبے کے تحت ہر دوا پر مخصوص کوڈ ہوگا جسے موبائل کیمرے سے سکین کرکے صارف اصلیت اور قیمت جان سکے گا۔ ڈیٹا کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے قانون میں ترامیم کی گئیں اور اب 99.99 فیصد ڈیٹا حاصل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سافٹ ویئر کی سافٹ لانچنگ ہو چکی ہے اور جلد ہی اس کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔

چین کے تعاون سے قائم ہسپتال کی بحالی

چینی عطیہ کردہ ہسپتال کے بارے میں وزیر صحت نے کہا کہ 2022 کے بعد انتظامی غفلت کے باعث یہ بند رہا تاہم اب اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت بحال کیا گیا ہے۔ انڈس ہسپتال کے ساتھ شراکت داری کے بعد یہاں 182 بستروں پر مشتمل طبی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں، جو اسلام آباد سمیت دیگر صوبوں کے مریضوں کے لیے بھی کھلی ہیں۔

ادویات کی قیمتوں کا تعین

شگفتہ جمانی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سینشل ادویات کی قیمتیں حکومت ریگولیٹ کرتی ہے جبکہ دیگر ادویات کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا ہے۔ دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی درخواستوں کو ڈریپ (DRAP) اور وزارت صحت کے ذریعے کابینہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ جیسے اسٹیٹ بینک نے ایس ایم ای قرضوں کیلئے ڈجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروا دیا، صحت کے شعبے میں بھی شفافیت کے ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

اہم سوالات و جوابات

پاکستان ویکسین کے اخراجات کب خود برداشت کرے گا؟

پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے لیے درکار سالانہ 1.2 ارب ڈالر کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کے قابل ہو جائے گا اور غیر ملکی مالی معاونت سے دستبردار ہو جائے گا۔

بارکوڈ سسٹم سے جعلی ادویات کی نشاندہی کیسے ہوگی؟

صارف بارکوڈ کو موبائل فون سے سکین کرے گا، اگر دوا اصلی ہوئی تو سکرین سبز اور اگر جعلی ہوئی تو سرخ ہو جائے گی، جس کے بعد متعلقہ سپلائی چین کا سراغ لگایا جا سکے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں