ہزارہ موٹر وے کی مرمت کیلئے 90 کروڑ روپے مختص، طلال چوہدری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان بالا میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہزارہ موٹر وے پر سڑک کی مرمت کے لیے 90 کروڑ روپے مختص کر دیئے گئے ہیں، جس کے بعد تکنیکی جائزے کی روشنی میں بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق بلوچستان میں کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کے پس منظر میں یہ اقدام انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اہم ہے۔
اہم نکات
- ہزارہ موٹر وے کی مرمت کے لیے حکومت نے 90 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں۔
- منصوبہ 2015 میں شروع ہوا اور 2018 میں مکمل ہوا، جس کی دو سالہ وارنٹی 2020 میں ختم ہوئی۔
- سڑک کے مختلف مقامات پر دھنسنے اور گڑھے پڑنے کے مسائل 2024 میں سامنے آئے۔
- مسائل کی وجوہات جاننے کے لیے جامع تکنیکی مطالعہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
- مرمتی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
ہزارہ موٹر وے کی مرمت اور تکنیکی تحقیقات
طلال چوہدری نے سینیٹ میں محسن عزیز کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ہزارہ موٹر وے پر تعمیراتی نقائص کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تیسرے فریق کی تکنیکی جانچ سمیت تمام طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 تک سڑک میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں آیا تھا، تاہم 2024 میں سڑک کے چھ اہم مقامات پر زمین بیٹھنے اور دھنسنے کے مسائل نمایاں ہوئے، جس کا پشاور ہائی کورٹ اور خیبر پختونخوا حکومت نے بھی نوٹس لیا تھا۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس معاملے پر جامع تکنیکی مطالعہ کرایا گیا جس میں مٹی، چٹانوں اور زمینی ساخت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت چینی کی برآمد پر اجلاس کے تناظر میں حکومت کی کوشش ہے کہ جاری ترقیاتی منصوبوں اور موجودہ انفراسٹرکچر کے معیار کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر مستقبل میں مزید تحقیقات یا وضاحت کی ضرورت پڑی تو حکومت اس کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔
اہم سوالات و جوابات
ہزارہ موٹر وے کی مرمت کے لیے کتنے فنڈز جاری کیے گئے؟
حکومت نے ہزارہ موٹر وے کے مختلف مقامات پر مرمتی کام کے لیے 90 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
سڑک پر مسائل کب سامنے آئے؟
ہزارہ موٹر وے پر سڑک دھنسنے اور گڑھے پڑنے کے مسائل 2024 میں سامنے آئے جن پر فوری تکنیکی مطالعہ کرایا گیا ہے۔