مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

صرف خلاباز نہیں، عام لوگوں کو بھی چاند کی سیر کرانا میرا مشن ہے، ایلون مسک

صرف خلاباز نہیں، عام لوگوں کو بھی چاند کی سیر کرانا میرا مشن ہے، ایلون مسک

صرف خلاباز نہیں، عام لوگوں کو بھی چاند کی سیر کرانا میرا مشن ہے، ایلون مسک

واشنگٹن: اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے مستقبل میں عام افراد کے لیے چاند کا سفر ممکن بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ ان کا مستقل قمری بیس قائم کرنے کا تصور اب سائنسی فکشن سے نکل کر ایک انجینئرنگ منصوبے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

ایلون مسک کے وژن کے تحت ’مون بیس الفا‘ کے نام سے چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں روایتی طور پر صرف ناسا کے خلابازوں تک محدود قمری مشنز کے بجائے عام شہریوں کو بھی چاند کا سفر کرنے کا موقع فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں اسپیس ایکس کا بڑا اسٹارشپ خلائی جہاز مرکزی کردار ادا کرے گا، جسے چاند کی سطح تک 100 ٹن تک سامان پہنچانے کی صلاحیت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ مدار میں ایندھن کی منتقلی کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اسٹارشپ رہائش گاہوں، روورز اور بھاری تعمیراتی آلات سمیت بڑے پیمانے پر سامان چاند تک پہنچا سکے گا، جس سے بالخصوص چاند کے جنوبی قطب پر طویل مدتی اور پائیدار انسانی بستیاں قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم، اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اسپیس ایکس کو بڑے تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ناسا پہلے ہی اپنے آئندہ آرٹیمس مشنز کے لیے اسٹارشپ ہیومن لینڈنگ سسٹم پر اسپیس ایکس کے ساتھ کام کر رہا ہے، تاہم مدار میں خلائی جہاز کو دوبارہ ایندھن فراہم کرنے کی ٹیکنالوجی اب بھی اہم سوالات کا سامنا کر رہی ہے۔

مکمل سامان کے ساتھ چاند تک پہنچنے کے لیے اسٹارشپ کو مدار میں قائم ایندھن کے ذخائر کے ساتھ رابطہ کرکے متعدد مرتبہ ایندھن حاصل کرنا ہوگا۔ سرکاری رپورٹس اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایک مشن کے لیے 11 یا اس سے زائد مسلسل ٹینکر لانچز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ناسا کی جانب سے بھی ایندھن بھرنے کے عمل میں تاخیر کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مستقبل میں خلائی بستیاں قائم کرنے کے لیے کم لاگت اور انتہائی زیادہ تعداد میں لانچز پر مشتمل قابلِ اعتماد خلائی نظام تیار کرنا سب سے اہم چیلنجز میں شامل ہوگا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں