مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

موسمیاتی تبدیلیوں سے 2050 تک جنوبی ایشیا کے 4 کروڑ افراد کی نقل مکانی کا خدشہ، افتخار علی ملک

موسمیاتی تبدیلیوں سے 2050 تک جنوبی ایشیا کے 4 کروڑ افراد کی نقل مکانی کا خدشہ، افتخار علی ملک

موسمیاتی تبدیلیوں سے 2050 تک جنوبی ایشیا کے 4 کروڑ افراد کی نقل مکانی کا خدشہ، افتخار علی ملک

*لاہور (3D میڈیا)* سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 2050 تک جنوبی ایشیا میں تقریباً چار کروڑ پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں معاشی اور سماجی عدم استحکام کے خطرات بڑھ جائیں گے۔

یکم نومبر کو جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کی زد میں ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اگر ممالک نے بروقت پیشگی اقدامات نہ کیے تو موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی مستقبل میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ موسمیاتی پیش گوئی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات اور متاثرہ آبادی کی منتقلی کے حوالے سے علاقائی تعاون تمام ممالک کو مشترکہ چیلنجوں سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اصل ضرورت یہ یقینی بنانا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے والے افراد کو نئی جگہوں پر زندگی دوبارہ مستحکم کرنے کے مواقع اور سہولیات میسر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہونے والی آبادی کی نقل مکانی کو اپنی ترقیاتی منصوبہ بندی کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔ صوبائی اور مقامی حکومتوں کو ان علاقوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل ہونی چاہئیں جو موسمیاتی اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، تاکہ متاثرہ افراد کی منتقلی اور آبادکاری کے لیے بروقت انتظامات کیے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زمین کے استعمال کی پالیسیاں، سستے مکانات، فنی تربیت، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو بدلتے ہوئے آبادیاتی رجحانات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ بنگلہ دیش کے زیرِ آب آنے کے خطرے سے دوچار ساحلی علاقوں سے لے کر پاکستان کے خشک سالی سے متاثرہ اضلاع تک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات لاکھوں افراد کے روزگار اور ذرائع معاش کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے نقل مکانی (IOM) کی پیش گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 2050 تک تقریباً چار کروڑ پانچ لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ خطے کے بعض علاقے بتدریج انسانی رہائش کے لیے ناموزوں ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کو بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ جنوبی ایشیا پہلے ہی غربت، شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی، بے روزگاری اور محدود وسائل پر دباؤ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث نقل مکانی ان مسائل میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، اس لیے علاقائی سطح پر مشترکہ منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں