ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے: گورنر اسٹیٹ بینک

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں یعنی ایس ایم ایز (SMEs) کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی اہم معاشی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ زراعت، ہاؤسنگ اور برآمدات کو بھی خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اہم نکات
- گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی اولین معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔
- بغیر کولیٹرل قرضوں کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
- ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل یکم نومبر 2026 سے فعال ہو گا جس کے ذریعے کاروباری افراد آن لائن قرض کی درخواست دے سکیں گے۔
- جون 2024 میں ایس ایم ایز کے قرضوں کا حجم 491 ارب روپے تھا جو جون 2026 میں بڑھ کر تقریباً 1,110 ارب روپے ہو گیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا لاہور چیمبر میں خطاب
اس موقع پر صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چودھری خادم حسین، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اختر جاوید، چیف مینیجر انصر افتخار بٹ، سینئر ڈپٹی چیف مینیجر محمد طاہر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگزم بینک شہباز حسین سید نے بھی خطاب کیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ بغیر کولیٹرل قرضوں کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایم ایز کی تعریف میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جہاں چھوٹے کاروباروں کے لیے سالانہ کاروباری حجم کی حد 15 کروڑ سے بڑھا کر 40 کروڑ روپے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے 80 کروڑ سے بڑھا کر 2 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ اب دو ارب روپے تک کا سالانہ کاروباری حجم رکھنے والے ادارے بھی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ہاؤسنگ اور برآمدی فنانسنگ کے نئے اقدامات
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کاروبار کی لاگت، ٹیکسوں اور توانائی کے مسائل حل کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کی ہاؤسنگ فنانس اسکیم پر مارچ 2026 میں نظرثانی کی گئی تھی جس کے بعد بینکوں نے چھ سے سات ماہ کے دوران تقریباً 80 ہزار درخواست گزاروں کے لیے 521 ارب روپے کی فنانسنگ منظور کی۔ وزیر اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر اسکیم کے تحت نوجوانوں کو صفر سے 7 فیصد تک کے مارک اپ پر قرضے دیے جا رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے سمیڈا اور کمرشل بینکوں کے تعاون سے ایس ایم ای قرضوں کے لیے درخواست فارم کو آسان بنا کر ایک صفحے تک محدود کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے ایس ایم ای قرضوں کیلئے ڈجیٹل پلیٹ فارم متعارف کروا دیا ہے جو یکم نومبر 2026 سے فعال ہو جائے گا۔
قرضوں کے اعدادوشمار اور برآمدی شعبے کے لیے پیکج

ایس ایم ای فنانسنگ کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ جون 2024 میں ایس ایم ای قرضوں کا حجم 491 ارب روپے تھا جو جون 2025 میں 691 ارب روپے اور جون 2026 میں تقریباً 1,110 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس دوران ایس ایم ای قرض داروں کی تعداد بھی 177,000 سے بڑھ کر 325,000 ہو گئی۔ برآمدی شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے تحت بینکوں کے لیے فنانسنگ کی حد ایک کھرب روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ کھرب روپے کر دی گئی ہے جس میں سے 300 ارب روپے خصوصی طور پر ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ کابینہ نے طویل مدتی برآمدی فنانسنگ کے لیے 10 سالہ اسکیم کی بھی منظوری دی ہے۔
لاہور چیمبر کی تجاویز اور اسلامی بینکاری کا کردار
لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے تجویز دی کہ صنعت، حکومت، ایگزم بینک اور کمرشل بینکوں کے اشتراک سے مشترکہ فنانسنگ کا نظام تشکیل دیا جائے اور فوری طور پر 1,000 ایس ایم ایز کا انتخاب کر کے ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک اور چیمبر کے شکایات مراکز کو منسلک کرنے پر زور دیا۔ سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے اسلامی بینکاری کے فروغ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اسلامی بینکاری کا حجم 6 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس شعبے میں ایس ایم ای فنانسنگ کا ہدف بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ نائب صدر چودھری خادم حسین نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عملی اقدامات پر زور دیا۔ اجلاس میں سابق صدور اور دیگر ایگزیکٹو کمیٹی ارکان بھی موجود تھے۔
اہم سوالات و جوابات
بغیر کولیٹرل ایس ایم ای قرضوں کی حد کتنی کر دی گئی ہے؟
بغیر کولیٹرل قرضوں کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل کب فعال ہو رہا ہے؟
ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل یکم نومبر 2026 سے فعال ہو گا جس کے ذریعے کاروباری افراد آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔
تبصرے (2)