خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ ملکی مفاد میں ہے، وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی استحکام، خیبر پختونخوا کے عوام کی حفاظت، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کو بچانے کے لیے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ایک ناگزیر اور بروقت فیصلہ تھا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کے روز یہاں مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے پارلیمانی ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔
اہم نکات
- خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ عوام، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے ناگزیر تھا۔
- دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق کی جانب سے دی گئی مل کر کام کرنے کی دعوت کو نظر انداز کیا گیا۔
- گزشتہ 13 سالوں میں صوبے میں ترقیاتی کاموں کے بجائے سیاسی دھرنوں اور تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا گیا۔
- این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے سے صوبے میں سیکیورٹی انفراسٹرکچر مضبوط نہیں کیا گیا۔
- حکومت غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی سکیم سمیت دیگر فلاحی اقدامات جاری رکھے گی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کیوں ضروری تھا؟
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا کیونکہ تمام تر مذاکراتی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر مشتمل کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے لیکن طے شدہ مسودے کی منظوری نہ مل سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور صوبائی وسائل کا استعمال
وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ 2017-18 تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم 2019 اور 2020 میں دوبارہ دہشت گردوں کو لا کر بسانے سے حالات خراب ہوئے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ اگر اس میں سے صرف 80 ارب روپے بھی پولیس کی تربیت اور جدید اسلحے پر خرچ کیے جاتے تو آج صوبائی فورس مزید مضبوط ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے، تاہم صوبائی سطح پر عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں کو ترجیح دی گئی۔
معاشی استحکام اور فلاحی اقدامات
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیول سبسڈی سکیم سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور حکومت نے اس مد میں 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبے کی ترقی، امن اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ (ن) اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
تعلیمی فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی
وزیراعظم نے کہا کہ چترال، ہری پور، مانسہرہ، باجوڑ اور شانگلہ میں دانش سکولوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ غریب بچوں کو معیاری تعلیم مل سکے۔ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر اور وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام انتشاری سیاست کو مسترد کر چکے ہیں اور اب صوبے میں صرف ترقی و امن چاہتے ہیں۔
اہم سوالات و جوابات
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
وزیراعظم کے مطابق صوبے میں گورنر راج کا فیصلہ ملک، خیبر پختونخوا کے عوام، معیشت اور معاشرے کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا گیا کیونکہ صوبائی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومت پر کیا الزامات عائد کیے؟
وزیراعظم نے الزام لگایا کہ گزشتہ 13 سالوں میں صوبے میں عوامی خدمت کے بجائے دھرنوں اور سیاسی تقسیم پر توجہ دی گئی اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کو سیکیورٹی اور پولیس کی بہتری پر خرچ نہیں کیا گیا۔