مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

الیکشن کمیشن کا قصور اور قمبر شہداد کوٹ میں پائلٹ پراجیکٹ

الیکشن کمیشن کا قصور اور قمبر شہداد کوٹ میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت خواتین کی رجسٹریشن کا عمل۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قصور اور قمبر شہداد کوٹ میں شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد صنفی فرق کو کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نومبر 2026 میں ضروری ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا جبکہ رجسٹریشن کی سرگرمیاں دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک جاری رہیں گی۔ ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے: گورنر اسٹیٹ بینک کے تناظر میں یہ اقدام ملکی معاشی و سماجی شمولیت کے لیے اہم ہے۔

اہم نکات

  • قصور میں 115,689 اور قمبر شہداد کوٹ میں 59,156 خواتین کی رجسٹریشن میں سہولت فراہم کی جائے گی۔
  • مقامی سوشل ورکر گھر گھر جا کر صنفی فرق والے علاقوں کی نشاندہی اور آگاہی مہم چلائیں گے۔
  • خواتین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نادرا (NADRA) کی موبائل وینز ان کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔
  • پراجیکٹ کی نگرانی الیکشن کمیشن کا جینڈر اینڈ سوشل انکلوژن ونگ اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل کر کریں گے۔

پراجیکٹ کا دائرہ کار اور اہداف

اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد ایسی خواتین کی نشاندہی کرنا ہے جو شناختی کارڈ بنوانے اور ووٹ درج کروانے کی اہل ہیں، اور انہیں اس عمل کے لیے قائل اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس عمل میں ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدائی طور پر ان بلاکس کو ترجیح دی جائے گی جہاں صنفی فرق زیادہ ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال ضروری، مصدق ملک کی طرح الیکشن کمیشن بھی جدید ٹیکنالوجی اور نادرا کے اشتراک سے رجسٹریشن کے عمل کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے۔

شمولیت کے لیے مقامی تعاون

اس اہم قومی پراجیکٹ میں شعبہ تعلیم، صحت، سول سوسائٹی، کمیونٹی نمائندگان اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز آگاہی اور رجسٹریشن کے لیے الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کریں گے۔ نادرا کے رجسٹریشن سینٹرز اور موبائل وینز کے ذریعے خواتین کو اپنے گھروں کے قریب شناختی کارڈ جیسی اہم دستاویز اور قانونی حق رائے دہی حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

مستقبل کی حکمت عملی

الیکشن کمیشن کا جینڈر اینڈ سوشل انکلوژن ونگ، صوبائی الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اور الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر اس پراجیکٹ کی مسلسل نگرانی کریں گے۔ اس کا مقصد صرف ان دو اضلاع میں صنفی فرق کم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا ماڈل تیار کرنا ہے جسے بعد ازاں دیگر اضلاع میں بھی لاگو کیا جا سکے، تاکہ پاکستان میں عطاء اللہ تارڑ کی نیشنل سائبر سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز کی طرح انتظامی امور میں شفافیت اور شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم سوالات و جوابات

پائلٹ پراجیکٹ کا مقصد کیا ہے؟

اس پراجیکٹ کا مقصد شناختی کارڈ سے محروم اور ووٹ کے اندراج کے لیے اہل خواتین کی نشاندہی کرنا، ان کی رجسٹریشن کروانا اور انتخابی عمل میں صنفی فرق کو کم کرنا ہے۔

رجسٹریشن کا عمل کب تک مکمل ہوگا؟

اس پراجیکٹ کے لیے ضروری ڈیٹا کا حصول نومبر 2026 میں کیا جائے گا جبکہ رجسٹریشن کی سرگرمیاں دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک جاری رہیں گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں