مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

سری لنکا اور پاکستان میں باہمی تجارت کے فروغ پر زور

سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے لاہور چیمبر کا اجلاس جاری ہے۔ (تصویر 1)

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سنیوی رتنے نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو بڑھتی ہوئی تجارتی مصروفیات، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داریوں میں ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اہم نکات

  • سری لنکن ہائی کمشنر نے پاکستانی تاجروں کو سری لنکا میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
  • لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے دو طرفہ تجارتی وفود کے تبادلے کی تجویز دی۔
  • دونوں ممالک میں سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد سے کاروباری روابط کو فروغ ملے گا۔
  • کاروباری برادری کے درمیان باہمی تجارتی مراکز کے قیام سے مارکیٹ تک رسائی بہتر ہوگی۔

لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور پاکستان کی معیشت کا تفصیلی جائزہ لیا، جبکہ سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چودھری خادم حسین نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہائی کمشنر نے پاکستانی تاجروں کو سری لنکا میں موجود تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور اپنے سری لنکن ہم منصبوں کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات استوار کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوستانہ تعلقات کا فائدہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں تک پہنچنا چاہیے۔

پاکستان اور سری لنکا کے مابین تجارتی روابط کی اہمیت

لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان خوشگوار اور دیرینہ تعلقات دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ان دوستانہ تعلقات کو عملی کاروباری مواقع میں بدلنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے تاجروں کے درمیان وفود کے تبادلے کی تجویز پیش کی تاکہ مارکیٹوں کو سمجھا جا سکے اور نئے شراکت دار تلاش کیے جا سکیں۔

سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے لاہور چیمبر کا اجلاس جاری ہے۔ (تصویر 2)

انہوں نے دونوں ممالک میں سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد کی تجویز بھی دی تاکہ مصنوعات اور خدمات کو فروغ دے کر براہ راست کاروباری رابطے قائم کیے جا سکیں۔ علی حسام اصغر نے لاہور کو ایک متحرک تجارتی مرکز قرار دیا جو پاکستان کی برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن تاجروں کے ساتھ روابط پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے نئے راستے کھول سکتے ہیں۔

انہوں نے کاروباری تنظیموں کے مابین براہ راست روابط اور چیمبر ٹو چیمبر تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دیرپا تجارتی شراکت داری قائم کی جا سکے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چودھری خادم حسین نے بھی اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر سری لنکا کے اعزازی قونصل یاسین جویا، سابق نائب صدور میاں زاہد جاوید اور حارث عتیق سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ہما جنید، شہزاد علی شاہ، محمد علی، شہزاد محمود، مردان علی زیدی، چودھری ذوالفقار علی، عامر عطا باری، سید یوسف جمیل، علی رضا، عدیل بابر خان اور چودھری محمد فرغام بھی موجود تھے۔ اسٹیٹ بینک کی طرح لاہور چیمبر بھی کاروباری آسانیوں کے لیے کوشاں ہے۔

اہم سوالات و جوابات

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر کے مطابق دونوں ممالک کو تجارتی وفود کا تبادلہ کرنا چاہیے اور سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد کر کے کاروباری برادریوں کو براہ راست ایک دوسرے سے جوڑنا چاہیے۔

کاروباری مراکز کے قیام سے کیا فائدہ ہوگا؟

ایک دوسرے کی مارکیٹوں میں کاروباری آوٹ لیٹس قائم کرنے سے مارکیٹ تک رسائی بہتر ہوگی اور دو طرفہ تجارتی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں