مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، بزنس لیڈرز زاہد اقبال، شاہد عمران اور سیف الرحمان کا مشترکہ بیان

نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، بزنس لیڈرز زاہد اقبال، شاہد عمران اور سیف الرحمان کا مشترکہ بیان

نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، بزنس لیڈرز زاہد اقبال، شاہد عمران اور سیف الرحمان کا مشترکہ بیان

لاہور، 4 اگست: جنوبی پنجاب کے معروف کاروباری رہنماؤں ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر میاں زاہد اقبال آرائیں، ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران اور فیڈرل ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی، متوازن علاقائی ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ منگل کو اپنے ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ذمہ داریوں کے باعث موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومت عوام کے مزید قریب آئے گی، فیصلوں کا عمل تیز ہوگا اور صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، زراعت، صنعت اور روزگار جیسے شعبوں پر زیادہ مؤثر انداز میں توجہ دی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبے مقامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، جبکہ اس عمل سے بلدیاتی ادارے بھی مزید مضبوط ہوں گے اور منتخب نمائندے عوامی مسائل کو زیادہ شفاف اور مؤثر انداز میں حل کر سکیں گے۔ کاروباری رہنماؤں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کا قیام سیاسی مفادات کے بجائے آئینی تقاضوں، قومی اتفاق رائے، معاشی استعداد اور مقامی آبادی کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں لایا جائے۔ ان کے مطابق ایک جامع اور منظم حکمت عملی کے تحت انتظامی اصلاحات علاقائی عدم توازن کم کرنے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور تمام شہریوں کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات اور بااختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے، جامع معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور پاکستان کو زیادہ مضبوط، خوشحال اور بہتر انداز میں چلنے والی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں