مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نائن الیون: دنیا میں جنگوں کا نیا فریم ورک جہاں ٹارگٹ ملک نہیں بلکہ خوف، ذہنی غبار اور ان دیکھا دشمن ہے

نائن الیون: دنیا میں جنگوں کا نیا فریم ورک جہاں ٹارگٹ ملک نہیں بلکہ خوف، ذہنی غبار اور ان دیکھا دشمن ہے

نائن الیون: دنیا میں جنگوں کا نیا فریم ورک جہاں ٹارگٹ ملک نہیں بلکہ خوف، ذہنی غبار اور ان دیکھا دشمن ہے

11 ستمبر 2001ء دنیا کی تاریخ کا صرف ایک المناک دن نہیں تھا بلکہ عالمی سیاست، جنگی حکمتِ عملی، سفارت کاری اور ریاستی طاقت کے تصور میں بنیادی تبدیلی کا آغاز تھا۔ اس روز امریکا میں القاعدہ سے وابستہ حملہ آوروں نے چار مسافر طیارے اغوا کرکے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا کو نشانہ بنایا، جس میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

اس حملے کے بعد امریکا نے ’’وار آن ٹیرر‘‘ کا اعلان کیا، مگر یہ جنگ کسی ایک ملک یا فوج کے خلاف نہیں تھی۔ دشمن ایک غیر ریاستی تنظیم، خفیہ نیٹ ورک، نظریے، ممکنہ خطرے یا مستقبل کے خدشے کی شکل اختیار کرگیا۔ یوں جنگ کا روایتی تصور بدل گیا اور دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوگئی جہاں جنگ کا ہدف صرف ملک نہیں بلکہ خوف، ذہنی انتشار اور ’’ان دیکھے دشمن‘‘ کا تصور بھی بن گیا۔ افغانستان: دہشت گرد تنظیم سے پورے ملک تک جنگ

نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا کیونکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو طالبان حکومت نے پناہ دے رکھی تھی۔ طالبان حکومت ختم کردی گئی اور دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ افغانستان میں جمہوری ریاست، فوج اور ادارے قائم کرنے کا منصوبہ شروع ہوا۔

مگر یہ کارروائی دو دہائیوں پر محیط جنگ میں بدل گئی۔ لاکھوں افغان شہری ہلاک یا بے گھر ہوئے، امریکی اور اتحادی فوجوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور کھربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ اگست 2021ء میں امریکی انخلا کے بعد طالبان دوبارہ کابل پر قابض ہوگئے۔ اس طرح ایک تنظیم کے خلاف شروع ہونے والی جنگ پورے ملک کی تباہی اور سیاسی ناکامی پر منتج ہوئی۔ عراق: ممکنہ خطرے کے خلاف جنگ

2003ء میں امریکا نے عراق پر حملہ کیا، حالانکہ نائن الیون سے عراق کا براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا تھا۔ جنگ کا بنیادی جواز یہ دعویٰ تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں اور وہ مستقبل میں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

بعد میں یہ دعوے ثابت نہ ہوسکے، لیکن عراق تباہ ہوگیا۔ فوج اور ریاستی اداروں کے خاتمے سے طاقت کا خلا پیدا ہوا، فرقہ وارانہ جنگ بڑھی، القاعدہ اِن عراق وجود میں آئی اور بالآخر داعش نے جنم لیا۔

یہاں سے ’’ممکنہ خطرے‘‘ کے خلاف پیشگی جنگ کا تصور مضبوط ہوا۔ اب جنگ کے لیے یہ ضروری نہیں رہا کہ دشمن نے حملہ کیا ہو؛ یہ کافی سمجھا جانے لگا کہ وہ مستقبل میں خطرہ بن سکتا ہے۔ خوف کو جنگی جواز بنانا

نائن الیون کے بعد جنگی پالیسی میں ثبوت کی جگہ خدشہ، موجودہ حملے کی جگہ ممکنہ حملہ اور واضح دشمن کی جگہ مبینہ نیٹ ورک نے لے لی۔ اس فریم ورک میں جوہری پروگرام، دہشت گرد گروہوں کی مبینہ معاونت، میزائل ٹیکنالوجی، سائبر حملے، پراکسی تنظیمیں اور مستقبل کے ممکنہ خطرات جنگ کے جواز بننے لگے۔

یہی وجہ ہے کہ جنگ اب صرف کسی حملے کا جواب نہیں رہی بلکہ ’’خطرے کو پہلے ختم کرنے‘‘ کی پالیسی بن گئی۔ ایران: خوف پر مبنی جنگ کا نیا باب

ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی کشیدگی نائن الیون سے پہلے کی ہے، تاہم اس کے خلاف جنگی بیانیہ بھی اسی نئے سکیورٹی فریم ورک سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی مسلح گروہوں کو خطرہ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے اور جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات مسترد کرتا ہے۔

2026ء میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو بھی ممکنہ جوہری خطرے، میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی نیٹ ورک کے خلاف پیشگی اقدام کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس جنگ نے افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں کی یاد تازہ کردی ہے، کیونکہ اس کے واضح اختتام، سیاسی حل اور جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔

ایران تنازع نے جنگ کو آبنائے ہرمز، تیل کی ترسیل، بحیرہ احمر، عالمی توانائی منڈی، پابندیوں، ڈرونز، میزائلوں اور پراکسی گروہوں تک پھیلا دیا۔ اس طرح ایک علاقائی تنازع عالمی معاشی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ دہشت گردی کی تعریف اور سیاسی طاقت

نائن الیون کے بعد ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ دہشت گردی کی تعریف کون کرے گا؟ عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا، خوف پھیلانا اور اجتماعی قتل کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ تاہم ہر مسلح مزاحمت یا آزادی کی تحریک کو بلاامتیاز دہشت گرد قرار دینا بھی تاریخی اور قانونی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی متعدد دستاویزات میں دہشت گردی کو عوام کے حقِ خود ارادیت، نوآبادیاتی تسلط، غیر ملکی قبضے اور قومی آزادی کی جائز جدوجہد سے الگ رکھنے کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ اصول بھی واضح ہے کہ کسی مقصد کے نام پر شہریوں کے خلاف دہشت گرد کارروائی جائز نہیں ہوسکتی۔

اس کے باوجود نائن الیون کے بعد بعض ریاستوں نے اپنے سیاسی مخالفین، مزاحمتی گروہوں اور آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی کے عالمی بیانیے میں شامل کیا۔ یوں ’’دہشت گرد‘‘ کی اصطلاح بعض اوقات قانونی تعریف سے زیادہ سیاسی طاقت کا ذریعہ بن گئی۔ پاکستان: عالمی جنگ کا سب سے بھاری بوجھ

پاکستان نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اہم فریق بنا، مگر اس کی قیمت پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان کی صورت میں ادا کی۔ سوات، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور دہشت گرد حملوں میں فوجی اہلکاروں، پولیس، صحافیوں، علما، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں سمیت ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے۔

ملکی معیشت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم اور سماجی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ پاکستان کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے فیصلوں کے اثرات اکثر ان ممالک کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جو جنگ کے بنیادی فیصلوں میں شریک نہیں ہوتے۔ القاعدہ سے داعش تک

اسامہ بن لادن 2011ء میں مارا گیا اور القاعدہ کا مرکزی ڈھانچہ کمزور ہوا، مگر دہشت گردی ختم نہ ہوئی۔ عراق میں القاعدہ اِن عراق سے داعش ابھری، جس نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا اور سوشل میڈیا و آن لائن پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی سطح پر خوف پھیلایا۔

اس سے ثابت ہوا کہ دہشت گرد تنظیموں کے سربراہوں کو ختم کرنا کافی نہیں۔ جب تک سیاسی محرومی، ریاستی کمزوری، فرقہ وارانہ تنازعات، غربت، بیرونی مداخلت اور سماجی ناانصافی موجود رہیں گی، نئے گروہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ جنگ کے نئے طریقے

نائن الیون کے بعد جنگ کے ذرائع بھی بدل گئے۔ ڈرون حملے، ٹارگٹ کلنگ، خفیہ آپریشنز، سائبر حملے، معاشی پابندیاں، پراکسی گروہوں کی معاونت، معلوماتی جنگ، جعلی خبروں، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور معاشی دباؤ نے روایتی جنگ کی جگہ لینا شروع کردی۔

اب کسی ملک کو شکست دینے کے لیے اس کی فوج کو تباہ کرنا ضروری نہیں؛ اس کی معیشت، عوامی اعتماد، ریاستی اداروں، توانائی کے نظام اور سیاسی اتحاد کو کمزور کرنا بھی جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یوکرین

عراق کی تباہی، شام کی خانہ جنگی، لیبیا کا انتشار، یمن کا بحران اور فلسطین اسرائیل تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل عدم استحکام میں مبتلا کردیا۔ افریقہ میں الشباب، بوکو حرام اور ساحل کے مسلح گروہوں کے خلاف جنگ بھی اسی عالمی سکیورٹی فریم ورک کا حصہ بنی، مگر غربت، ریاستی کمزوری اور مقامی محرومیوں کو حل کیے بغیر فوجی کارروائیاں پائیدار امن نہ لاسکیں۔

دوسری جانب روس کا یوکرین پر حملہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ سے آگے بڑھ کر دوبارہ بڑی طاقتوں کی جغرافیائی کشمکش میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ جنگ براہِ راست نائن الیون کا نتیجہ نہیں، لیکن اس نے ثابت کیا کہ عالمی طاقتوں کی توجہ طویل عرصے تک ایک محاذ پر مرکوز رہنے سے دوسرے بڑے خطرات نظرانداز ہوسکتے ہیں۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا بحران

نائن الیون کے بعد امریکا اور دیگر ممالک میں نگرانی، خفیہ حراست، گوانتانامو بے، پیٹریاٹ ایکٹ، غیر معمولی حوالگی اور وسیع انٹیلی جنس اختیارات میں اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر شہری آزادیوں، رازداری، آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق پر پابندیاں لگیں۔

مسلمانوں، مہاجرین اور بعض مذہبی و نسلی گروہوں کے خلاف شکوک اور اسلاموفوبیا میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں ایک دہشت گرد تنظیم کے جرم کا اثر پوری مذہبی برادری پر ڈالنے کا رجحان پیدا ہوا۔ پچیس برس کا نتیجہ

نائن الیون کے بعد القاعدہ کمزور ہوئی، داعش کا علاقائی قبضہ ختم ہوا اور کئی دہشت گرد رہنما مارے گئے، لیکن دنیا میں جنگیں ختم نہیں ہوئیں۔ افغانستان، عراق، شام، لیبیا، یمن، افریقہ، یوکرین اور ایران کے تنازعات نے جنگ کو ایک مستقل عالمی عمل بنادیا۔

اس عرصے میں لاکھوں افراد ہلاک، کروڑوں بے گھر، کئی ریاستیں کمزور اور عالمی معیشتیں متاثر ہوئیں۔ دشمن کا نام بدلتا رہا: القاعدہ، طالبان، صدام حسین، داعش، پراکسی گروہ، جوہری خطرہ، سائبر دشمن اور مستقبل کا ممکنہ خطرہ۔ نتیجہ

نائن الیون ایک حقیقی اور ہولناک دہشت گرد حملہ تھا، جس کی مذمت میں کوئی ابہام نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس کے بعد تشکیل پانے والے عالمی جنگی نظام کا تنقیدی جائزہ بھی ضروری ہے۔

پچھلے پچیس برسوں میں جنگ کا ہدف ہمیشہ کوئی ملک نہیں رہا۔ کبھی ہدف ایک تنظیم تھی، کبھی نظریہ، کبھی ممکنہ جوہری پروگرام، کبھی پراکسی نیٹ ورک اور کبھی ایسا دشمن جس کا خطرہ ابھی ثابت بھی نہیں ہوا تھا۔

نائن الیون نے دنیا کو جنگوں کے ایک ایسے نئے فریم ورک میں داخل کردیا جہاں دشمن غیر واضح، خطرہ مستقل، خوف سیاسی ہتھیار اور جنگ لامحدود بن گئی۔ اس نئے نظام میں اصل ٹارگٹ صرف سرزمین یا حکومت نہیں بلکہ عوامی نفسیات، اجتماعی خوف، ذہنی غبار اور ’’ان دیکھے دشمن‘‘ کا تصور بھی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں