نیتن یاہو کا غیر اعلانیہ دورۂ ابوظہبی، اماراتی صدر سے ملاقات

یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے ابوظہبی میں اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نیتن یاہو کے ابوظہبی پہنچنے اور اماراتی صدر سے ملاقات کی تصدیق کی ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر دورے اور ملاقات کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کا دورہ ایک روزہ تھا اور انہوں نے نجی طیارے کے ذریعے ابوظہبی کا سفر کیا۔ اسرائیلی چینل 12، KAN، ہاآرتص اور یروشلم پوسٹ سمیت مختلف ذرائع نے بھی وزیراعظم کے دورۂ امارات کی رپورٹ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دورے کا پیشگی اعلان نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے غیر اعلانیہ یا خفیہ نوعیت کا دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے اور زیر بحث آنے والے معاملات کی سرکاری تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
نیتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سکیورٹی سمیت مختلف معاملات پر رابطے جاری رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے رواں ماہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو مبینہ طور پر حماس کی جانب سے بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ اخبار کے مطابق یہ مبینہ اطلاع اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوجی حکام تک نہیں پہنچائی گئی۔
نیتن یاہو نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے اور ہاآرتص کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر براہ راست تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اگست 2020 میں طے پانے والے ابراہام معاہدوں کے بعد باضابطہ طور پر قائم ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے سفارتی، اقتصادی، تجارتی اور سکیورٹی شعبوں میں روابط کو فروغ دیا ہے۔
رواں سال مئی میں بھی نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے ایک مبینہ خفیہ دورے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس وقت اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے دورے کی بات کی تھی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکاری اعلان کے بغیر ایسے دورے سے متعلق اطلاعات بے بنیاد ہیں۔
حالیہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ خطے میں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے پس منظر میں ہوا ہے۔ تاہم نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کی حالیہ ملاقات میں ایران، فلسطین، حماس، علاقائی سکیورٹی یا کسی دوسرے معاملے پر کیا گفتگو ہوئی، اس حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے دورے اور ملاقات کی تصدیق کے باوجود اماراتی حکومت کی طرف سے تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ملاقات کے ممکنہ ایجنڈے یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی سمجھوتے یا فیصلے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔