ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی ذکر، ’بہترین انسان‘ قرار دے دیا

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے انہیں ’’ٹیرِفک مین‘‘ یعنی ’’بہترین انسان‘‘ قرار دیا اور پاکستان کو بھی ’’عظیم ملک‘‘ کہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں آٹھ جنگوں یا تنازعات کو ختم کرانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بھی شامل ہے۔ ان کے بقول بعض تنازعات کئی برس جبکہ بعض کئی دہائیوں سے جاری تھے، تاہم ان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں انہیں روکنے میں مدد ملی۔
ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ ان کے کردار کے باعث تقریباً 30 ملین انسانی جانیں بچیں۔ امریکی صدر کے مطابق تنازعات کے حل میں شامل مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی انہیں اس کردار پر شکریے کے خطوط بھیجے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے میں براہِ راست کردار ادا کیا۔ تاہم بھارت اس دعوے سے اختلاف کرتا ہے اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ بندی پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست فوجی رابطوں کے نتیجے میں ہوئی تھی۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسوو اور سربیا، جمہوریہ کانگو اور روانڈا، جبکہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازعات کا بھی ذکر کیا اور ان کے حل میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا۔