پاکستان لنڈے کے کپڑے درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا

پاکستان لنڈے کے کپڑے درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان دنیا میں لنڈے کے کپڑے درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، جہاں 2024 کے دوران 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے قریب لنڈے کے کپڑے درآمد کیے گئے، جن کا مجموعی وزن 10 لاکھ 84 ہزار 520 ٹن سے زیادہ تھا۔
عالمی بینک کے ورلڈ انٹیگریٹڈ ٹریڈ سلوشن (WITS) میں اقوام متحدہ کے Comtrade کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے ایک سال کے دوران روزانہ اوسطاً تقریباً 3 ہزار ٹن لنڈے کے کپڑے درآمد کیے۔
مالیت کے اعتبار سے پاکستان کے بعد گواٹے مالا تقریباً 21 کروڑ ڈالر، کینیا 20 کروڑ 71 لاکھ ڈالر، یوکرین 18 کروڑ 19 لاکھ ڈالر اور چلی 16 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی درآمدات کے ساتھ بڑے درآمد کنندگان میں شامل رہے۔
مقدار کے لحاظ سے بھی پاکستان سب سے آگے رہا۔ کینیا نے تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار ٹن، ملائیشیا نے 2 لاکھ 27 ہزار ٹن، بھارت نے 1 لاکھ 60 ہزار ٹن اور گواٹے مالا نے تقریباً 1 لاکھ 31 ہزار ٹن لنڈے کے کپڑے درآمد کیے۔
پاکستان کی درآمدی مقدار کینیا سے تقریباً ساڑھے چار گنا جبکہ بھارت سے تقریباً سات گنا زیادہ رہی۔
امریکا پاکستان کو لنڈے کے کپڑے فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ 2024 میں امریکا سے تقریباً 23 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت کے لنڈے کے کپڑے پاکستان درآمد ہوئے، جن کا وزن تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار ٹن تھا۔
چین، کینیڈا، برطانیہ اور جنوبی کوریا بھی پاکستان کو لنڈے کے کپڑے فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہیں، جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، بیلجیم اور اسپین سمیت کئی یورپی ممالک سے بھی بڑی مقدار میں کپڑے پاکستان پہنچتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان صرف لنڈے کے کپڑوں کا بڑا درآمد کنندہ ہی نہیں بلکہ انہیں دوبارہ دوسرے ممالک کو برآمد بھی کرتا ہے۔
2024 میں پاکستان نے تقریباً 28 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے لنڈے کے کپڑے مختلف ممالک کو برآمد کیے۔ پاکستانی لنڈے کے کپڑوں کی بڑی منڈیوں میں افریقی ممالک نمایاں ہیں۔
کینیا پاکستان سے لنڈے کے کپڑے خریدنے والا اہم ملک رہا، جہاں 2024 میں تقریباً 7 کروڑ 21 لاکھ ڈالر مالیت کے کپڑے برآمد کیے گئے۔ موزمبیق، تنزانیہ، تھائی لینڈ اور چلی بھی پاکستانی لنڈے کے کپڑوں کی اہم منڈیوں میں شامل رہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں لنڈے کے کپڑوں کا کاروبار محض مقامی بازاروں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بڑے بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بن چکا ہے، جس میں درآمد، چھانٹی، درجہ بندی، مقامی فروخت اور دوبارہ برآمد شامل ہیں۔
عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے Comtrade کے دستیاب اعداد و شمار میں 2024 اس وقت تازہ ترین مکمل عالمی تقابلی سال ہے۔