مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز، پے پاک کارڈ کے فروغ کا منصوبہ

پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز، پے پاک کارڈ کے فروغ کا منصوبہ

پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز، پے پاک کارڈ کے فروغ کا منصوبہ

اسلام آباد: پاکستان میں بین الاقوامی ادائیگی کے نیٹ ورکس ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی ادائیگی کے نظام “پے پاک” کو وسعت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے 1LINK نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو متعدد پالیسی سفارشات ارسال کی ہیں۔

تجاویز کے مطابق سرکاری ملازمین کے تنخواہ اکاؤنٹس کے لیے پے پاک کارڈ کا اجرا مرحلہ وار لازمی بنایا جائے، جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، دیگر سماجی تحفظ کی اسکیموں، حکومتی سبسڈیز اور ماس ٹرانزٹ سسٹمز میں بھی اسی کارڈ کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔

1LINK نے پے پاک کارڈ کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے پوائنٹ آف سیل (PoS) اور ای کامرس کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں پر ٹیکس مراعات، کیش بیک، رعایتی آفرز اور لائلٹی ریوارڈز متعارف کرانے کی بھی سفارش کی ہے۔ ان مراعات کا اطلاق یوٹیلیٹی بلوں، ایندھن کی خریداری، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر سرکاری ادائیگیوں پر کیا جا سکتا ہے۔

سفارشات میں یہ بھی شامل ہے کہ نادرا، پاسپورٹ، ایکسائز اور دیگر سرکاری دفاتر میں ایسے PoS ٹرمینلز نصب کیے جائیں جہاں پے پاک کارڈ کے ذریعے آسانی سے ادائیگی کی جا سکے۔

یہ تجاویز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اس حکمت عملی سے ہم آہنگ ہیں جس کا مقصد مقامی ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو مضبوط بنانا، پے پاک اور راست کے استعمال میں اضافہ کرنا اور غیر ملکی ادائیگی نیٹ ورکس پر انحصار کو بتدریج کم کرنا ہے۔

پے پاک پاکستان کا پہلا مقامی ادائیگی کارڈ نیٹ ورک ہے، جسے 2016 میں 1LINK نے اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں متعارف کرایا تھا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد ادائیگیوں کی لاگت میں کمی، مالی شمولیت کو فروغ دینا اور ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں