پاکستان کو تحقیق، مہارت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، میاں کاشف اشفاق

پاکستان کو تحقیق، مہارت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، میاں کاشف اشفاق
لاہور (نمائندہ خصوصی): پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی عالمی دوڑ تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے حقیقی کامیابی صرف ٹیکنالوجی تک رسائی میں نہیں بلکہ اسے تیار کرنے، اپنانے اور مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔
اتوار کو یہاں پاکستان فرنیچر کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے منظرنامے سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق، مہارت، جدید انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔
میاں کاشف اشفاق نے شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا، جس میں چین نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدت، اطلاق اور مؤثر گورننس کے فروغ کے لیے تعاون کا عزم ظاہر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی میں اے آئی انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری، افرادی قوت کی تربیت اور تحقیق و ترقی کو بنیادی ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ ملک عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو چین اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تحقیق، افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایسی مصنوعی ذہانت گورننس کی بھی حمایت کرنی چاہیے جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات، چیلنجز اور زمینی حقائق کی عکاسی کرے۔