پورٹ آف اسپین ٹیسٹ: پاکستان فتح کے دہانے پر، ویسٹ انڈیز 6 وکٹوں پر 103 رنز بنا سکا

پورٹ آف اسپین ٹیسٹ: پاکستان فتح کے دہانے پر، ویسٹ انڈیز 6 وکٹوں پر 103 رنز بنا سکا
پورٹ آف اسپین: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا اور آخری ٹیسٹ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ عبداللہ شفیق کی شاندار سنچری اور ساجد خان کی تباہ کن اسپن بولنگ کی بدولت پاکستان نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔
تیسرے روز کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 103 رنز بنائے ہیں۔ میزبان ٹیم کو مجموعی طور پر صرف 60 رنز کی برتری حاصل ہے جبکہ اس کی صرف چار وکٹیں باقی ہیں، جس کے باعث پاکستان کو آخری روز ایک نسبتاً آسان ہدف ملنے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 344 رنز بنائے تھے۔ جسٹن گریوز 73 اور کپتان روسٹن چیز 70 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ کریگ بریتھویٹ نے 42 اور میکائل لوئس نے 36 رنز اسکور کیے۔ پاکستان کی جانب سے ساجد خان نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی، عبید شاہ اور علی عثمان نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
جواب میں پاکستان نے عبداللہ شفیق کی 160 رنز کی شاندار ناقابل شکست اننگز اور کپتان بابر اعظم کے ذمہ دارانہ 88 رنز کی بدولت پہلی اننگز میں 387 رنز بنا کر 43 رنز کی قیمتی برتری حاصل کی۔ صائم ایوب نے 28 اور سعود شکیل نے 22 رنز کا اضافہ کیا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جومیل واریکن نے تین جبکہ جیڈن سیلز نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
43 رنز کے خسارے کے بعد دوسری اننگز میں بھی ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ پاکستانی اسپنرز کے سامنے مشکلات کا شکار رہی۔ ساجد خان نے ایک بار پھر شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار اہم وکٹیں اپنے نام کیں، جبکہ علی عثمان نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
تیسرے روز کا کھیل ختم ہونے پر کیسی کارٹی 31 اور جومیل واریکن 12 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ پاکستان چوتھے روز باقی ماندہ چار وکٹیں جلد حاصل کر کے معمولی ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے میچ جیتنے اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔