مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر مبینہ طور پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست 2026 کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس حکم پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس پر ذمہ دار حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں اور انہیں ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں ذمہ داران کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے اور وہاں ان کا مکمل طبی معائنہ اور ضروری علاج کرایا جائے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم میں بانی پی ٹی آئی کو مخصوص طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 18 اگست کو عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی تھی، جس میں فزیشن، جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ، ماہر امراض چشم اور کارڈیالوجسٹ شامل ہونا تھے۔ حکم کے مطابق عمران خان کو 16 ستمبر کو کیس کی آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہنا تھا۔

تاہم حکام کی جانب سے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا اور بعد ازاں انہیں اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے راستے اور اطراف میں سکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ماہرین بھی طبی معائنے کے عمل میں شامل تھے۔

پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سے متعلق تھا، اس لیے عمران خان کو پمز لے جاکر طبی معائنہ کرانا عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد نہیں ہے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے عدالتی حکم پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے عدالتی افسر تعینات کرنے یا لوکل کمیشن مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے، تاکہ عمران خان کی اسپتال منتقلی، طبی معائنے اور علاج سے متعلق عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی نگرانی کی جاسکے۔

توہینِ عدالت کی درخواست پی ٹی آئی کے وکلا سلمان اکرم راجا اور عزیر بھنڈاری کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھی فریق بنائے جانے کی اطلاع ہے۔

یہ درخواست ایسے وقت دائر کی گئی ہے جب عمران خان کی اسپتال منتقلی اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرچکا ہے۔ سپریم کورٹ عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق اصل مقدمے کی مزید سماعت 16 ستمبر کو کرے گی، جبکہ پی ٹی آئی نے نئی درخواست کے ذریعے عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں