کراچی اور پورٹ قاسم کے لیے متحدہ ٹرانس شپمنٹ مراعاتی پیکیج کا اعلان

کراچی اور پورٹ قاسم کے لیے متحدہ ٹرانس شپمنٹ مراعاتی پیکیج کا اعلان
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے، کارگو ہینڈلنگ لاگت میں کمی لانے اور علاقائی شپنگ ٹریفک کو پاکستان کی بندرگاہوں کی جانب راغب کرنے کے لیے متحدہ ٹرانس شپمنٹ مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) اور ان کے کنٹینر ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے مشترکہ طور پر متعارف کرائے گئے اس پیکیج کے تحت کنٹینرائزڈ، بلک اور بریک بلک ٹرانس شپمنٹ کارگو پر ویٹ چارجز، وارفیج، اسٹوریج فیس اور ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز میں نمایاں رعایتیں دی جائیں گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت ٹرانس شپمنٹ کارگو لے جانے والے جہازوں کو کارکردگی کی بنیاد پر ویٹ چارجز میں رعایت دی جائے گی۔ 5 سے 10 فیصد ٹرانس شپمنٹ کارگو پر 20 فیصد، 11 سے 25 فیصد پر 30 فیصد، 26 سے 50 فیصد پر 50 فیصد، 50 سے 90 فیصد پر 70 فیصد اور 90 سے 100 فیصد ٹرانس شپمنٹ کارگو لے جانے والے جہازوں کو 80 فیصد تک رعایت دی جائے گی، تاہم اس کے لیے مقررہ کم از کم کنٹینرز کی شرط لاگو ہوگی۔
اس پیکیج کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ 20 سے 80 فیصد تک وارفیج رعایت، ٹرمینلز پر 14 روز مفت اسٹوریج اور ٹی پی ایکس کارگو ایریا میں ایجنٹ کی ذمہ داری پر 30 روز تک مفت اسٹوریج کی سہولت فراہم کرے گا، جبکہ پورٹ قاسم اتھارٹی 100 فیصد وارفیج رعایت، ٹرمینلز پر سات روز مفت اسٹوریج اور ایجنٹ کی ذمہ داری پر کارگو کی نقل و حرکت کے لیے 21 روز تک توسیعی سہولت دے گی۔
پاکستان کے چار بڑے کنٹینر ٹرمینلز، کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT)، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز (SAPTL)، کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (KGTL) اور قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (QICT) نے بھی ٹرمینل ہینڈلنگ چارجز (THC) میں 10 سے 25 فیصد تک رعایت دینے کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق 20 اور 40 فٹ دونوں اقسام کے کنٹینرز پر ہوگا۔
محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ یہ نیا فریم ورک سابقہ تمام ٹرانس شپمنٹ مراعاتی نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کی جگہ لے گا اور کراچی پورٹ و پورٹ قاسم پر یکساں، شفاف اور کارکردگی پر مبنی مراعاتی نظام نافذ کرے گا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے کہا کہ اس اقدام سے ٹرانس شپمنٹ لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، مرکزی شپنگ سروسز کو پاکستان کی بندرگاہوں کی جانب راغب کرنے میں مدد ملے گی، جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم میں بہتری آئے گی اور علاقائی کارگو کی آمدورفت میں اضافہ ہوگا۔