مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

یورپی ملک مالدووا کے وزیر اعظم طالبان وفد کے دورے پر برہم، ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کا فیصلہ

یورپی ملک مالدووا کے وزیر اعظم طالبان وفد کے دورے پر برہم، ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کا فیصلہ

یورپی ملک مالدووا کے وزیر اعظم طالبان وفد کے دورے پر برہم، ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کا فیصلہ

کیشیناؤ، 5 اگست: مالدووا کے وزیراعظم واسیلے توفان نے افغانستان کے طالبان حکام پر مشتمل وفد کے حالیہ دورے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ادارہ جاتی رابطوں میں ناکامی اور صورتحال کے غلط اندازے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت ویزا منظوری اور بین الادارہ جاتی رابطہ کار کے نظام کا ازسرنو جائزہ لے گی تاکہ مستقبل میں ایسے حساس معاملات میں اس نوعیت کی غلطی دوبارہ نہ ہو۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ مالدووا طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور افغان وفد کو ملک میں داخلے کی اجازت دینا حکومت کی خارجہ پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایک مقامی کمپنی کی درخواست پر معمول کی انتظامی کارروائی کے تحت کیا گیا، تاہم اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کا مناسب انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وفد کے ارکان کسی بین الاقوامی پابندی کی فہرست میں شامل نہیں تھے اور مجوزہ سرگرمیاں یورپی یونین کی پابندیوں سے متصادم بھی نہیں تھیں، لیکن ایسے معاملات میں صرف انتظامی تقاضے پورے کرنا کافی نہیں بلکہ قومی مفاد اور خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھی مکمل جانچ ضروری ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کا نظام مزید مؤثر بنانے، حساس نوعیت کے ویزا کیسز کے لیے لازمی مشاورت کا طریقہ کار متعارف کرانے اور منظوری کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی ہدایت بھی جاری کی۔

ادھر مالدووا کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بار پھر واضح کیا کہ ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور افغان وفد کے ساتھ کوئی سرکاری ملاقات نہیں کی جائے گی۔ وزارت نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کرتے ہوئے دعوت نامے اور ویزوں کی منظوری کے تمام مراحل کا جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں