یکم جولائی سے 22 اگست، پٹرول 42 اور ڈیزل 57 روپے فی لیٹر مہنگا، قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ

یکم جولائی سے 22 اگست، پٹرول 42 اور ڈیزل 57 روپے فی لیٹر مہنگا، قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ
اسلام آباد: پاکستان میں یکم جولائی سے 22 اگست 2026 تک پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، اس دوران پٹرول مجموعی طور پر 42 روپے 9 پیسے جبکہ ڈیزل 56 روپے 82 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔
یکم جولائی کو پٹرول 299 روپے 50 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر تھا۔ 4 جولائی کو دونوں مصنوعات کی قیمت میں ایک روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی اور پٹرول 297 روپے 53 پیسے جبکہ ڈیزل 309 روپے 50 پیسے پر آگیا۔
11 جولائی کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کے باعث پٹرول کی قیمت 13 روپے 18 پیسے بڑھا کر 310 روپے 71 پیسے اور ڈیزل 13 روپے 80 پیسے اضافے کے بعد 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر کردیا گیا۔
17 جولائی کو صورتحال مزید تبدیل ہوئی اور حکومت نے پٹرول 5 روپے 44 پیسے مہنگا کرکے 316 روپے 15 پیسے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 روپے 5 پیسے کے غیرمعمولی اضافے کے بعد 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر کردیا۔ اسی مرحلے پر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ نظرثانی کا نیا طریقہ کار بھی شروع کیا۔
روزانہ قیمتوں کے نظام کے تحت جولائی کے آخری حصے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً روزانہ تبدیلیاں ہوئیں۔ 21 جولائی کو پٹرول 315 روپے 80 پیسے اور ڈیزل 360 روپے 6 پیسے تھا، جبکہ 22 جولائی کو قیمتیں بڑھ کر بالترتیب 320 روپے 73 پیسے اور 367 روپے 21 پیسے ہوگئیں۔
23 جولائی کو پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے اور ڈیزل میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول 327 روپے 12 پیسے اور ڈیزل 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
جولائی کے آخری دن قیمتیں مزید بڑھیں۔ 31 جولائی کو پٹرول 336 روپے 15 پیسے اور ڈیزل 393 روپے 4 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ یوں 4 جولائی کی قیمت کے مقابلے میں صرف جولائی کے دوران پٹرول تقریباً 38 روپے 62 پیسے اور ڈیزل 83 روپے 54 پیسے مہنگا ہوا۔
اگست کے آغاز پر معمولی ریلیف ملا اور یکم اگست کو پٹرول کی قیمت 12 پیسے کم ہوکر 336 روپے 3 پیسے جبکہ ڈیزل 66 پیسے کمی کے بعد 392 روپے 38 پیسے ہوگیا۔
اس کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوبارہ کمی کا سلسلہ شروع ہوا۔ 5 اگست کو پٹرول 3 روپے 39 پیسے کم ہوکر 328 روپے 56 پیسے اور ڈیزل 4 روپے 7 پیسے کمی کے بعد 385 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
14 اگست کے قریب پٹرول 325 روپے 43 پیسے اور ڈیزل 383 روپے 95 پیسے تک آگیا، تاہم 18 اگست کو دونوں مصنوعات دوبارہ مہنگی کردی گئیں۔ پٹرول 5 روپے 77 پیسے اضافے کے بعد 331 روپے 20 پیسے اور ڈیزل 6 روپے 47 پیسے اضافے کے بعد 390 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
19 اگست کو پٹرول مزید 3 روپے 34 پیسے مہنگا کرکے 334 روپے 54 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 27 پیسے اضافے کے بعد 395 روپے 69 پیسے فی لیٹر کردیا گیا۔ تاہم اگلے ہی روز ڈیزل کی قیمت میں غیرمعمولی 32 روپے 63 پیسے کی کمی کی گئی اور قیمت 363 روپے 6 پیسے پر آگئی، جبکہ پٹرول 2 روپے 97 پیسے مہنگا ہوکر 337 روپے 51 پیسے ہوگیا۔
21 اگست کو پٹرول 27 پیسے اضافے کے بعد 337 روپے 78 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے اضافے کے بعد 364 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
22 اگست کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں مزید 3 روپے 81 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 3 روپے 59 پیسے کا اضافہ کردیا۔ نئی قیمتوں کے بعد پٹرول 341 روپے 59 پیسے اور ڈیزل 368 روپے 29 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔
یوں یکم جولائی کی قیمتوں کے مقابلے میں 22 اگست تک پٹرول 42 روپے 9 پیسے یعنی تقریباً 14 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 56 روپے 82 پیسے یعنی تقریباً 18 فیصد مہنگا ہوچکا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عرصے میں سب سے زیادہ ڈرامائی اتار چڑھاؤ ڈیزل کی قیمت میں آیا۔ جولائی کے آخر میں ڈیزل 393 روپے سے تجاوز کرکے 395 روپے 69 پیسے تک پہنچا، پھر 20 اگست کو ایک ہی دن میں 32 روپے 63 پیسے کی بڑی کمی کے بعد 363 روپے 6 پیسے ہوگیا۔ اس کے بعد دوبارہ اضافے سے 22 اگست کو قیمت 368 روپے 29 پیسے تک پہنچ گئی۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی، خطے میں کشیدگی، درآمدی لاگت اور حکومت کے روزانہ قیمتوں کے نظرثانی کے نئے طریقہ کار کو قرار دیا جارہا ہے۔