مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

رواں سال خلیجی ممالک سے بائیس ہزار پاکستانی شہریوں کی ڈی پورٹیشن

رواں سال خلیجی ممالک سے بائیس ہزار پاکستانی شہریوں کی ڈی پورٹیشن

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران خلیجی ممالک سے مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کرکے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ یہ تشویشناک اعداد و شمار قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے پیش کردہ تحریری جواب میں سامنے آئے ہیں۔ وزارت کی جانب سے رکن قومی اسمبلی حمید حسین کے استفسار پر فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، یکم مارچ سے 13 جولائی تک ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد میں ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام، بھیک مانگنے، غیرقانونی داخلے، منشیات کی اسمگلنگ، پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے، جعلی دستاویزات کے استعمال اور سکیورٹی سے متعلق حساس معاملات شامل ہیں۔

خلیجی ممالک سے ڈی پورٹیشن کی تفصیلات

تحریری جواب کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں 4 ہزار 628 پاکستانیوں کو مفرور ہونے کی بنیاد پر واپس بھیجا گیا، جبکہ ایک ہزار 294 پاکستانیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی اور 968 افراد کو بلیک لسٹ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک ہزار 155 پاکستانیوں کے کیسز پاسپورٹ گم ہونے سے متعلق تھے، جبکہ 689 افراد کو ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور 342 افراد کو خلیجی ممالک میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث واپس بھیجا گیا۔ دیگر اہم سرکاری امور اور ملک کی حکومت پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر کوششوں کے باوجود یہ اعداد و شمار تارکین وطن کے لیے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

ممالک کے اعتبار سے اعداد و شمار

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سعودی عرب سے سب سے زیادہ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جن کی تعداد 15 ہزار 500 کے قریب ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات نے 3 ہزار 803، عمان نے ایک ہزار 606، بحرین نے 521، قطر نے 429 اور کویت نے 97 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔ وزارت داخلہ نے 6 ہزار 662 پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن کو ‘دیگر’ وجوہات کے زمرے میں رکھا ہے تاہم ان مخصوص خلاف ورزیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کی ملائیشین وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران بھی تارکین وطن کے مسائل پر بات چیت کی گئی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

بھیک مانگنے اور دیگر جرائم کا انکشاف

خلیجی ممالک سے 472 ایسے پاکستانی بھی ڈی پورٹ کیے گئے جو وہاں بھیک مانگنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے 9 افراد کو انٹرپول کے ذریعے واپس بھیجا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے 3 ہزار 921 مفرور افراد کو جبکہ متحدہ عرب امارات نے 636 مفرور پاکستانیوں کو واپس بھیجا۔ اسی طرح غیر قانونی داخلے کے مرتکب افراد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا جہاں ایک ہزار 924 افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ عمان سے 295 افراد کو اسی نوعیت کی خلاف ورزی پر واپس بھیجا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی ملاقات جیسے اقدامات کے ذریعے حکومت ان مسائل کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے وقار کو بحال کیا جا سکے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں