مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

صدر کی منظوری میں تاخیر، پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججوں کو کام سے روک دیا گیا

صدر کی منظوری میں تاخیر، پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججوں کو کام سے روک دیا گیا

صدر کی منظوری میں تاخیر، پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججوں کو کام سے روک دیا گیا

پشاور: صدر مملکت کی جانب سے مستقل تقرری کی منظوری میں تاخیر کے باعث پشاور ہائی کورٹ کے چار ایڈیشنل جج عدالتی فرائض انجام نہیں دے پا رہے اور انہیں نئے مقدمات کی سماعت سے روک دیا گیا ہے۔

ڈان کے مطابق جسٹس فرح جمشید، جسٹس عنایت اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب کی بطور ایڈیشنل جج توسیعی مدت 4 اگست کو ختم ہو گئی، جبکہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مستقل تقرری کی سفارش کے باوجود صدر مملکت کی منظوری اور سرکاری نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق ان چاروں ججوں نے فروری 2025 میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تھا اور بعد ازاں ان کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔ جوڈیشل کمیشن نے 20 جولائی کے اجلاس میں انہیں مستقل جج مقرر کرنے کی سفارش وزیراعظم کے ذریعے صدر مملکت کو بھجوائی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 اگست سے ان ججوں کو سماعت کے لیے کوئی نیا مقدمہ نہیں سونپا گیا کیونکہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے تک وہ عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان یوسفزئی نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی فوری منظوری دی جائے تاکہ نوٹیفکیشن جاری ہو سکے اور عدالت میں ججوں کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل کا خاتمہ ہو۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں