امریکی صدر وائٹ ہاؤس کا مالک نہیں عارضی مکین ہے، عدالت نے بال روم کی تعمیر روک دی

امریکی صدر وائٹ ہاؤس کا مالک نہیں عارضی مکین ہے، عدالت نے بال روم کی تعمیر روک دی
واشنگٹن: امریکی وفاقی اپیل عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو وائٹ ہاؤس میں مجوزہ 40 کروڑ ڈالر کے بال روم کی تعمیر روکنے کا حکم دے دیا، جس سے متنازع منصوبے کو ایک اور بڑا عدالتی دھچکا لگا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی سرکٹ کی امریکی اپیل عدالت نے دو کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریتی رائے سے نچلی عدالت کے حکم کو برقرار رکھا، جس کے تحت وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر پر ابتدائی حکم امتناع عائد کیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع مل سکے۔ صدر ٹرمپ نے فیصلے کو ’’انتہائی غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔
اکثریتی فیصلہ دینے والے ججز پیٹریشیا ملیٹ اور بریڈلی گارسیا نے قرار دیا کہ صدر وائٹ ہاؤس کے مستقل مالک نہیں بلکہ عارضی مکین ہوتے ہیں۔ ججز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اتنے بڑے بال روم کی تعمیر کی اجازت دینا یا نہ دینا کانگریس کا اختیار ہے اور انتظامیہ کانگریس کی منظوری کے بغیر یہ فیصلہ خود نہیں کر سکتی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد بال روم کی تعمیر کی افادیت یا ضرورت پر رائے دینا نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری عدالتی کارروائی کے دوران منصوبے پر تعمیراتی کام جاری رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے عدالتی فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے موجودہ اور مستقبل کے افراد کی زندگیوں اور فلاح و بہبود کو خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے امریکی سپریم کورٹ سے اپیل عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
اپیل عدالت میں شامل ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ جج نومی راؤ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کی کہ بال روم کی تعمیر کا اختیار صدر کے پاس ہے۔ ٹرمپ نے جج نومی راؤ کے اختلافی مؤقف کو سراہا۔
یہ مقدمہ نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن نے دائر کیا تھا، جس نے وائٹ ہاؤس کے تاریخی ایسٹ ونگ کو منہدم کرکے بال روم تعمیر کرنے کے منصوبے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ مجوزہ بال روم کا رقبہ تقریباً 90 ہزار مربع فٹ بتایا گیا ہے جبکہ منصوبے کی لاگت تقریباً 40 کروڑ ڈالر ہے۔
اس سے قبل اپریل میں امریکی وفاقی جج رچرڈ لیون نے بھی منصوبے پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے صرف زیرِ زمین حصے کی تعمیر کی اجازت دی تھی، جسے قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا، جبکہ مہمانوں کی میزبانی کے لیے مجوزہ بال روم کی تعمیر روک دی گئی تھی۔
تازہ فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس کے بال روم کا منصوبہ ایک بار پھر قانونی تنازع کا شکار ہو گیا ہے اور اب اس معاملے کا اگلا اہم مرحلہ ممکنہ طور پر امریکی سپریم کورٹ میں ہوگا۔